- فتوی نمبر: 30-297
- تاریخ: 08 دسمبر 2023
- عنوانات: عبادات > نماز > سجدہ سہو کا بیان
استفتاء
امام اگر قعدہ اولیٰ میں التحیات پڑھ کر کچھ دیر بیٹھا رہے تاکہ مقتدی پڑھ لیں تو سجدہ سہو ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امام کا قعدہ اولیٰ میں التحیات پڑھنے کے بعد کچھ دیر بیٹھے رہنا تاکہ مقتدی بھی اپنی التحیات پڑھ لیں درست نہیں، نیز مذکورہ صورت میں اگر امام تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار بیٹھا رہا تو اگلے رکن میں تاخیر کی وجہ سے نماز ناقص ہوگی اور سجدہ سہو بھی کافی نہیں ہوگا کیونکہ سجدہ سہو تب واجب ہوتا ہے جب غلطی بھولے سے ہو جبکہ مذکورہ صورت میں عمداً تاخیر کی جا رہی ہے اور تاخیر کی وجہ سے امام کی نماز ناقص ہوگی اور جب امام کی نماز ناقص ہوگی تو مقتدیوں کی نماز بھی ناقص ہوگی اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے دوبارہ نماز پڑھنی پڑے گی۔
شامی (1/ 408) میں ہے:
«(قوله قدر أداء ركن) أي بسنته منية. قال شارحها: وذلك قدر ثلاث تسبيحات اهـ وكأنه قيد بذلك حملا للركن على القصير منه للاحتياط، وإلا فالقعود الأخير والقيام المشتمل على القراءة المسنونة أكثر من ذلك»
حاشيۃ الطحطاوی على مراقی الفلاح (ص: 460) میں ہے:
باب سجود السهو: (يجب) …. (سجدتان) …. (لترك واجب) بتقديم، أو تأخير، أو زيادة أو نقص.
و في حاشيته: قوله: (لترك واجب) أي من واجبات الصلاة الأصلية.
حاشيۃ الطحطاوی على مراقی الفلاح (ص: 462) میں ہے:
(وإن كان تركه) الواجب (عمدا أثم ووجب) عليه (إعادة الصلاة) تغليظا عليه (لجبر نقصها) فتكون مكملة وسقط الفرض بالأولى وقيل تكون الثانية فرضا فهي المسقطة (ولا يسجد في) الترك (العمد للسهو) لأنه أقوى.
ہندیہ(1/ 126) میں ہے:
إن ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدا لا، كذا فی التتارخانية وظاهر كلام الجم الغفير أنه لا يجب السجود في العمد وإنما تجب الإعادة جبرا لنقصانه كذا في البحر الرائق.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved