- فتوی نمبر: 32-223
- تاریخ: 02 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ميرا نام زید ہے۔ میں **** کا رہائشی ہوں۔مجھے ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے۔میرے چار بچے ہیں،ایک بیٹا ہے شادی شدہ اور تین بیٹیاں ہیں، ایک بیٹی طلاق یافتہ ہے جومیرے پاس رہتی ہے ،ایک چھوٹی بیٹی ہے جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی،میں نے اپنے بیٹے کوایک اور گھر خرید کردیا ہے جو اس کے نام ہے ،ایک کارخانہ ہے وہ بھی اسکے نام ہے اور ایک دکان بھی اسکے نام ہے اور جو کاروبار تھا وہ بھی اس نے سنبھال لیا ہے اور میں بالکل بیکار ہوں،ایک گھر ہے جس میں رہتا ہوں اور یہ تمام جائیداد میری محنت اور اللہ پاک کی کرم نوازی سے بنائی ہوئی ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ:
1۔جو جائیداد میرے بیٹے کے نام ہے اس میں میرا حصہ ہے یانہیں؟
2۔ میری اہلیہ بھی حیات ہے اگر میں زندگی میں جائیداد تقسیم کروں تو کیسے تقسیم کروں؟
وضاحت مطلوب ہے: مذکورہ چیزیں آپ نے بیٹے کے صرف نام کی ہیں یا انہیں مکمل دیدی ہیں کہ وہ جو چاہے جیسے چاہے تصرف کرے؟
جواب وضاحت: جب میں نے بیٹے کو اپنے ساتھ دکان پر بٹھایا تو میں نے بیٹے سے کہا کہ آج سے یہ کاروبار ہمارے درمیان آدھا آدھا ہو گا، پھر اس کاروبار سے ہم نے ایک دکان، ایک کارخانہ اور بیٹے کی رہائش کے لیے ایک علیحدہ گھر خریدا ، یہ تینوں چیزیں بیٹے کے نام پر خریدی تھیں لیکن نہ اس کو مکمل طور پر دینے کی نیت تھی اور نہ ہی میں نے کبھی اسے یہ کہا کہ یہ چیزیں آپ کی ہیں، اب میرا موقف یہ ہے کہ چونکہ یہ تینوں چیزیں کاروبار سے خریدی گئی ہیں اس لیے ان سب میں آدھا حصہ میرا اور آدھا میرے بیٹے کا ہے لیکن اس نے ہر چیز سے مجھے بے دخل کر دیا ہے اور اپنی بہنوں کو بھی کچھ نہیں دیا۔
بیٹے کا مؤقف:
والد صاحب نے یہ سب کچھ مجھے ہدیہ دیا تھا اور ایک پلاٹ والدہ کی طرف سے ملاتھا پھر بعد میں والد صاحب کہنے لگے کہ آپ کا اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔
والد کی طرف سے وضاحت:
یہ پلاٹ میری بیوی کے نام تھا لیکن اس کا مالک میں تھا میں نے بیوی کے نام پر خریدا تھا لیکن بیوی کو ہبہ نہیں کیا تھا اور پلاٹ بھی کاروبار کی کمائی سے خریدا گیا تھا بعد میں اس کو بیچ کر بیٹے کے لیے گھر خریدا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر واقعتاً آپ نے مذکورہ چیزیں صرف بیٹے کے نام کی تھیں،زبانی اس کوہبہ نہیں کی تھیں تو گھر، دکان اور کارخانہ آدھا آپکا اور آدھا آپ کے بیٹے کا ہے اور اگر آپ اپنی زندگی میں اپنا مال تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو افضل یہ ہے کہ اپنے لیے جتنا رکھنا چاہیں رکھ لیں باقی میں سے آٹھواں حصہ بیوی کو دیدیں اس کے بعد جو باقی بچ جائے اس میں سے آپ بیٹے اور بیٹیوں کو برابر دیں اور بیٹے کو بیٹیوں سے دوگنا دیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
5
| بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 1 | 1 | 1 |
ہندیہ(4/391)میں ہے:
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى.
فتاویٰ خلیلیہ (ص:269) میں ہے:
سوال: بکر نے اپنی حیات میں جو جائیداد غیر منقولہ خرید کی وہ کچھ اپنے نام سے کچھ اپنے دوپسران کے نام سے جو ابھی نابالغ ہیں خریدی بکر ۱۹۱۱ء میں بیمار ہوکر قضاء الہی سے شروع ۱۹۱۲ء میں فوت ہوگیا، اور اپنے وارثان میں چند لڑکے اور لڑکیاں اور زوجہ کو چھوڑا، اب بحکم شرعی وہ جائیداد جو دوپسران کے نام سے ہے اسکے وہ دونوں پسران مالک رہے یا کل وارثان پر منقسم ہوگی؟
جواب: اگر کسی مصلحت سے فرضی طور پر اپنے نابالغ فرزندان کے نام لکھوایا، اور بوقت شراء اپنے ہی لئے خریدنا مد نظر تھا تو اس صورت میں شی خود عاقد کی ملک ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved