• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اپنی بیو ی کو دو دفعہ زبانی اور ایک مرتبہ تحریر ی طلاق دینے کا حکم

استفتاء

کیا درج ذیل تحریر کی رو سے طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟

“میں مسمی زید  ولد خالد اپنے پورے ہوش وحواس سے اہم زندگی کا فیصلہ کررہا ہوں۔ فیصلہ کرتے وقت جو تکلیف محسوس کررہا ہوں یہ یا تو میں جانتا ہوں یا میرا اللہ پاک۔کسی کو کسی قسم کا شبہ نہ رہے ، فاطمہ ولد عمر ایک اچھی عورت ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں ہے ، زینب اس کی بیٹی ہے قابل ذہین ہے ،بہت اچھی ہے، وہ بالغ ہے اس نےاپنی ماں  کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔زید کے ساتھ یہ خوش نہیں تھی اس لئے میں زبردستی انہیں نہیں رکھ سکتا، میں  ان سے بہت زیادہ محبت  کرتا ہوں انہیں اس کا علم نہیں تھا،  میں اب تک ان کے لئے جو کرسکتا تھا کیا،  اب  میں نے ماں بیٹی کو فیصلہ سے آزاد کردیا ہے، آزاد ہونے کا فیصلہ انہوں نے خود کیا، اب تو  وہ اپنوں میں  بھی پہنچ گئی ہیں،  جہاں بھی رہیں خوش رہیں۔ اس وقت میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ میرے بہن بھائیوں سے بھی میرارشتہ میری موت تک ختم ہے ۔”مسمی زید اپنے ہوش و حواس سے فاطمہ ولد عمر کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں” آج کے  بعد زید اور اس کے بیٹوں کا زینب سے کوئی تعلق نہیں۔ میں برا اور اچھا زبردستی جوڑنا نہیں چاہتا،  میں دنیا کا سب سے برا انسان ہوں،گھٹیا انسان ہوں،  گنہگار ہوں یہ میرا اور اللہ کامعاملہ ہے”

وضاحت مطلوب ہے:سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ نیز شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت: سائل لڑکی کا بھائی ہے۔ شوہر کا رابطہ نمبر یہ ہے:*********

تنقیح: شوہر سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ  تحریر لکھنے سے پہلےمیں نے بیوی کو گھر سے نکلتے ہوئے دو دفعہ طلاق دی تھی اور طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ ” میں تمہیں طلاق دیتاہوں، میں تمہیں طلاق دیتاہوں “اور ایک دفعہ دینا ابھی باقی تھی کہ شاید کوئی صلح کی صورت ہوجائے، پھر اس سے اگلے دن میں نے خود اپنے ہوش وحواس میں طلاق کی مذکورہ تحریرلکھی،  اور دستخط بھی کیے۔ اور طلاق لکھتے ہوئے میری طلاق ہی کی نیت تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے۔ لہٰذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں جب شوہر نے بیوی کو گھر سے نکلتے ہوئے دو دفعہ یہ کہا کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”تو یہ الفاظ چونکہ طلاق کےلیے صریح ہیں اس لیے ان سے دورجعی طلاقیں واقع ہوئیں۔ پھر اس کے بعد اگلے دن جب شوہر نے مذکورہ تحریر لکھ کر دستخط کردیئے تو اس وقت چونکہ بیوی عدت میں تھی اس لیے اس تحریر سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔

الدرالمختار (445/4) میں ہے:

( صريحه ما لم يستعمل إلا فيه ) ولو بالفارسة ( كطلقتك وأنت طالق ومطلقة )………(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح( واحدة رجعية وإن نوى خلافها ) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي ( أو لم ينو شيئا ).

دررالحکام شرح غررالاحکام(228/2) میں ہے:

ومن حكمها[اي العدة]………..صحة الطلاق فيها.

فتاوی شامی(442/4) میں ہے:

قال في الهندية: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا لا.

بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة لأن أهل التأويل اختلفوا في مواضع التطليقة الثالثة من كتاب الله قال بعضهم هو قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره }

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved