- فتوی نمبر: 26-131
- تاریخ: 21 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > شرکت کا بیان > مشترکہ خاندانی نظام
استفتاء
ایک شخص نے پلاٹ خریدا تھا، اس شخص کے چار بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں اور اس کی بیوی بھی زندہ ہے اب اس شخص کے چاروں بیٹوں نے مل کر اس پلاٹ پرعمارت تعمیر کی۔ مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ اس شخص کی بیوی اور چھ بیٹیوں کا حصہ صرف اس پلاٹ میں ہے یا پلاٹ میں جو عمارت بنائی گئی ہے جس کی قیمت موجودہ وقت میں 70لاکھ روپے ہے اس کل قیمت میں ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس شخص کی بیوی اور چھ بیٹیوں کا حصہ صرف پلاٹ میں ہے اس پلاٹ میں جو عمارت بنائی گئی ہے اس میں نہیں، اس عمارت میں صرف ان بیٹوں کا حصہ ہے جن کا روپیہ پیسہ اس عمارت میں لگا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں مکان کی دو مرتبہ قیمت لگوائی جائےگی، ایک مرتبہ پلاٹ اور عمارت دونوں سمیت، اور دوسری مرتبہ صرف پلاٹ کی ، پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ کی قیمتوں میں جو فرق ہو وہ فرق صرف بیٹوں کو ملے گا اور باقی قیمت اس شخص کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved