• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بدفعلی اور ضربِ شدید کی بنیاد پر عدالتی خلع سے طلاق کا حکم

استفتاء

شادی کو تین سال ہو گئے ہیں ۔شادی کے پہلے دن سے میرے شوہر  تشدد کے ساتھ بدفعلی  کرتے تھے۔حمل کے دوران بھی  تشدد اور بدفعلی کرتے تھے۔حیض کے دنوں میں جماع اور (پیچھے سے) بدفعلی  کرتے تھے۔بیوی سے اتنی بیزاری تھی کہ ہاتھ لگانے پر بھی مارتے تھے۔بیوی  کے سامنے تکیے سے خواہش پوری کرتے اور بیوی کے  ساتھ پیچھے سے  بدفعلی کرتے تھے۔سب کے سامنے صحیح ازدواجی تعلقات کا اظہار کرتےلیکن بند کمرے میں بیوی کو پاس بھی نہ آنے دیتے تھے۔بیوی سے  دلچسپی نہیں تھی۔ساس شوہر کے کپڑے نہیں دھونے دیتی تھی ۔شوہر کو صرف سونے یا کاروبار کرنے کا پتہ تھا بیوی کے حقوق ادا کرنے کی طرف بالکل توجہ نہیں تھی ۔شروع شروع میں جماع کرنے کی شرط رکھتے کہ پہلے بدفعلی یا منہ میں فارغ کروں گا اس طرح سلسلہ چلتا رہا ۔ لیکن ایک سال ہوا میں  نے اس عمل کے حرام ہونے کی وجہ سے بالکل پابندی لگا دی۔اب بالکل دور ہوتے جا رہے تھےتین تین ماہ تک قریب نہیں آتے تھے ۔اپنی جیب کو بالکل بھی ہاتھ تک نہیں لگانے دیتے تھے۔میاں بیوی کے آپس میں جائز تعلقات کو بے شرمی کہتے اور جب حرام کاری کروانی ہوتی تو کہتے کہ میں شوہر ہوں اپنی مرضی سے جو کرنا چاہوں کر سکتا ہوں۔بیوی کو چھونے کو  بھی بے شرمی کہتے ۔کافی بار گلا دبانے کی اور منہ پر تکیہ رکھ کر  مارنے کی کوشش بھی کی۔ میں کہتی تھی کہ قرآن میں حیض کے دنوں میں جماع سے  صاف الفاظ میں منع کیا گیا ہے اور بدفعلی کا بھی کہا کہ یہ حرام ہے اس لیے منع کیا تو اسلامی طریقہ کار سے بھی دور ہوگئے کہ اس میں مزہ نہیں آتاصر ف پیچھے سے کرنے میں لذت  ہے یا منہ میں فارغ کرنے  میں۔اگر تم نہیں  کرتی تو باہر جا کر خواہش پوری کروں گا۔25 سال کی بیوی کو کہتے کہ 80 سال کی مائی لگتی ہو۔شوہر کی خاطر زیب وزینت اختیار  کرتی تو کہتے کہ بس کپڑے پہننے اور تیار ہونے کا پتہ ہے  ۔میں تو شوہر کی خوشی کی خاطران کی ہر ضرورت (مثلا روٹی پانی جوتی کپڑے تیار رکھنا) پوری  کرتی ۔شوہر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے زیب وزینت کرتی تو کبھی بھی تعریف نہیں کی بلکہ تعریف تو دور کی بات کہتے بس کپڑے پہننے کا پتہ ہے۔تمھاری ذمہ داری ہے کہ سب کام کرو۔ میں  شوہر کی ہر پسند اور ناپسند کا خیال رکھتی اور سب سے بڑھ کر اس رشتے کو سمجھتی تھی۔اور اس رشتے کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتی تھی اور نبھا رہی تھی اب تک شوہر کی ہر بات کو راز ہی رکھا تھا اور اس وجہ سے ڈپریشن کی مریضہ بن گئی تھی۔شوہر کی بے انتہاء  بے رخی نے مجھے ڈپریشن کی مریضہ بنا دیا ہے۔اب میں باقاعدہ اس کا علاج کروا رہی ہوں۔مجھے دوائی وغیرہ لا کر دینے کی بات ہوتی  تو کہتے کہ دیور کے ساتھ چلی جانا۔میں پردے کا خیال رکھتی ہوں ۔اگر کہیں جانا ہو تو کہتے کہ دیور کے ساتھ موٹر سائیکل پر چلی جانا ۔پونے دو سال کا بیٹا اور نو ماہ کی بیٹی ہے۔بیٹے کی شرمگاہ پکڑ کر مسلتے اور اس کو بھی قوم لوط والی عادت میں شامل کرتے میں  منع بھی کرتی تو کہتے میرا بیٹا ہے میں جو مرضی کروں۔ہر وقت  لعن طعن کرتے کہ تمہارے والدین نے ہمیں کیا دیا ہے۔جو کچھ دیا ہے اپنی بیٹی کو دیا ہے مثلا جہیز وغیرہ۔ اور کہتے کہ اپنے والدین سے گھر اپنے نام کرواؤ پھر وہاں جانا ہے ورنہ والدین کے پاس نہیں جانا۔گھر نام کروا کر دیا پھر بھی کہتے کہ اب یہ نہیں دیا وہ نہیں دیا مطلب ہر وقت بس لالچ کرتے تھے اور بیوی پر تشدد کرتے۔جماع کے دوران کہتے کہ تمہارے اندر ہی پیشاب کرنے لگا ہوں مطلب ہر لحاظ سے اس طرح کرتے کہ کبھی ملنے کا دوبارہ نام ہی نہ لوں اور ظالمانہ طریقے سے  جماع کرتے تھے۔ساتھ لیٹنا تو دور کی بات بیٹھتے بھی نہیں تھے۔کبھی بھی بیوی کو پیار نہیں کیا اور چھوا تک نہیں ۔جماع بھی بدفعلی کی شرط پر کرتے۔ پھر بھی بیوی میں بالکل دلچسپی نہیں ہے شوہر کو صرف سونے سے غرض ہے یا پھر دوکان پر جانے سے۔گھر آتے ہیں سوتے ہیں اٹھ کر پھر دوکان پر چلے جاتے ہیں یہ ہی شوہر کی مصروفیت ہے۔گاؤں کا علاقہ ہے 8یا 9 بجے بازار بند ہو جاتا ہے لیکن یہ بارہ ایک بجے تک دوکان بند کرتے ہیں صرف ان کی دوکان کھلی ہوتی ہے۔آکر نہاتے ہیں پھر سوتے ہیں کہتے ہیں کہ رات کو بڑے گاہک آتے ہیں۔احتلام کا غسل دو تین دن بعد کرتے نماز بھی کوئی ادانہیں کرتے صرف جمعہ پڑھتے اور کبھی وہ بھی چھوڑ دیتے ۔اپنے خاندان کے ساتھ مل کر بیوی کا مذاق اڑاتے ۔کبھی قد کو طنز کا نشانہ بناتے ،نندیں اتنا تنگ کرتیں تھیں ان کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ماں کی باتوں میں آکر بیوی کو مارتے۔بہنیں بھی بیوی کے خلاف بھڑکاتیں تو مارتے۔کہتے میرے لیے پہلے میرے والدین کا میرے دل میں مقام ہے پھر بہن بھائی کا پھر رشتہ داروں کا اس کے بعد بیوی بچوں کا ۔میں  نے کہا بھی کہ بیوی کا الگ مقام ہے والدین کا الگ مقام ہے۔بچوں کے ہونے سے پہلے میرے والدین نے میرے شوہر سے کہا بھی تھا کہ بیوی کے حقوق ادا کیوں نہیں کرتے تو اس کے بعد بالکل الٹا پڑ گئے مطلب بجائے ٹھیک ہونے کے ظالمانہ انداز سے جماع کرنے ،مارتے، تیل ڈال دیتے اور کہتے کہ اب والدین کو بتانا کہ اس نے ٹھنڈ ڈالی ہے ۔وحشی بن کر  جماع کرتےکہ اب ٹھنڈ پڑی ہے وغیرہ۔ان وجوہات کی بناء پر میں نے عدالت سے خلع لے لیا

سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح عدالت سے خلع لینے سے  طلاق ہو جاتی ہے ؟

نوٹ :شوہر سے رابطہ کیا گیا لیکن ان کا فون بند ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر بیوی پر تشدد کرتا تھا اور اس کا گلا دبانے کی کوشش کی ہے یا بیوی سے پیچھے کے راستے سے ہمبستری کرتا تھا  تو عدالت کے فیصلے سے  ایک بائنہ  طلاق  واقع ہو گئی  جس کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا ہے بیوی کہیں اور نکاح کرنا چاہے  تو عدت کے بعد نکاح کرسکتی ہے۔

توجیہ:عدالت نے مارپیٹ کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کا فیصلہ کیا ہے  اور شوہر کا تشدد کرنا مالکیہ کے نزدیک فسخ نکاح کی معتبر بنیاد ہے اور فقہائے حنفیہ  نے ضرورت کے وقت مالکیہ کے مذہب کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے لہٰذا اس بنیاد پر عدالت کا فسخ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہے  ۔

مواہب الجلیل شرح مختصر خلیل (5/228)میں ہے:

(ولها  التطليق بالضرر) ش:قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه في الفراش عنها وإيثار امرأة عليها وضربها ضربا مؤلما.

شرح الكبير للدردير مع حاشیۃ الدسوقی (2/345) میں ہے:

(ولها) أي للزوجة (التطليق) على الزوج (بالضرر) وهو ما لا يجوز شرعا كهجرها بلا موجب شرعي وضربها كذلك وسبها وسب أبيها، نحو يا بنت الكلب يا بنت الكافر يا بنت الملعون كما يقع كثيرا من رعاع الناس ويؤدب على ذلك زيادة على التطليق كما هو ظاهر وكوطئها في دبرها….

حیلہ ناجزہ (140) میں ہے:

ان كل طلاق اوقعه الحاكم فهو بائن الا طلاق المولى و المعسر و سواء اوقعه الحاكم بالفعل او جماعة المسلمين او امراها به. انتهى.

فتاوی ہندیہ (2/411) میں ہے:

إذا كان ‌الطلاق ‌بائنا ‌دون ‌الثلاث فله أن يتزوجها في العدة  وبعد انقضائها۔

فتاوی  عثمانی (2/470) میں ہے:

سوال:گزارش ہے کہ علمائے دین اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں جو یہ ہے کہ فسخ نکاح کا فیصلہ عدالت نے کیا ہے، اس مسئلے میں ہمیں اطمینان دلایا جائے ، عین نوازش ہوگی۔

جواب : – منسلکہ فیصلہ احقر نے پڑھا، اس فیصلے میں شوہر کے ضرب شدید اور نا قابل برداشت جسمانی اذیت رسانی کی بنیاد پر مسماۃ شمیم اختر کا نکاح محمد سرور سے فسخ  کر دیا گیا، فسخ نکاح کی بنیاد مالکی مذہب کے مطابق درست ہے، اور فقہائے حنفیہ نے ضرورت کے موقع پر اس مسلک کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے، لہذا عدالت کے فیصلے کے بعد مسماۃ شمیم اختر کا نکاح محمد سرور سے ختم ہو چکا ہے، اب وہ عدت پوری کرے، یعنی تین مرتبہ ایام ماہواری گزارنے کے بعد کہیں اور نکاح کر سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved