بیرون ملک سے پاکستان سستی گاڑی بھیجنے کا حق بیچنا
- فتوی نمبر: 26-234
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > حقوق مجردہ کی خرید و فروخت
استفتاء
میں متحدہ عرب امارات میں کام کرتا ہوں ،مجھے ایک مسئلے کے بارے میں پوچھنا ہے کہ حکومت پاکستان ہر ایک پاکستانی کو یہ حق دیتی ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے پاسپورٹ کے ذریعے سے ایک گاڑی ملک بھیج سکتا ہے ۔اب چونکہ ہر فرد کی اتنی استطاعت نہیں کہ وہ گاڑی بھیج سکے ،اس لیے کچھ لوگوں نے یہ کام شروع کیا ہو اہے کہ وہ ایسے شخص سے کہ جو گاڑی خرید نہیں سکتا اس کی رضامندی سے پاسپورٹ لے کر اس کے نام سے ایک گاڑی پاکستان بھیجتے ہیں اور اس طرح اپنا کاروبار کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں اس شخص کو 80000پاکستانی روپے دیتے ہیں ۔
کیا ایسا کرنا جائز ہے یعنی پاسپورٹ دینے والے شخص کے لیے یہ رقم حلال ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں پاسپورٹ دینے والے کے لیے یہ رقم لینا جائز نہیں ہے ۔
توجیہ : مذکورہ صورت کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستانیوں کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ ایک گاڑی پاکستان بھیج سکتے ہیں جس پر ان کو ٹیکس میں تخفیف ملتی ہے اور جو لوگ بذات خود گاڑی نہیں خرید سکتے وہ اپنا حق مال دار افراد کو فروخت کرکےاس کے عوض ان سے متعین رقم لے لیتے ہیں۔ مذکورہ صورت جائز نہیں ہے اس لیے کہ مذکورہ صورت حق مجرد کی بیع بنتی ہے جبکہ حقوق مجردہ کی خریدو فروخت جائز نہیں ہے۔اور اگر اسے ٹیکس بچانے کے لیے ایک حیلے کے طور پر دیکھا جائے تب بھی اس کی اجازت دفع مضرت کے لیے تو ہو سکتی ہے جلب منفعت کے لیے نہیں جبکہ یہ معاملہ دفع مضرت کا نہیں ہے ۔
حاشيۃ ابن عابدين (7/ 31):
«مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved