• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بڑے جانور میں عقیقہ کے کئی حصے رکھنا

استفتاء

(1)میرا  ایک بیٹا  اور ایک بیٹی ہے  جن کا میں عقیقہ کرنا   چاہتا  ہوں چونکہ  میرا  اور میری  اہلیہ کا بھی عقیقہ   نہیں ہوا تو ان کے ساتھ  میں  اپنا اور اپنی  اہلیہ کا بھی عقیقہ کرنا چاہتا ہوں تو کیا میں ایک گائے یا بھینس  لے کر سب کا عقیقہ کر سکتا ہوں؟ دو حصے میرے  دو حصے بیٹے کے ایک اہلیہ کا اور ایک بیٹی  کا باقی جو ایک حصہ  بچ جائے گا اس کا کیا حکم ہے؟(2) نیز کچھ لوگ کہتے ہیں  کہ دو حصوں سے مراد دو جانور یعنی دو جانیں  قربان کرنی ہوتی ہیں  ایک جانور میں مشترکہ عقیقے نہیں کر سکتے  اس میں کتنی حقیقت ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)   ایک گائے یا بھینس میں   آپ سب کا عقیقہ کر سکتے    ہیں  نیز  جانور کے سات حصے کرنا ضروری نہیں  اس سے کم بھی کر سکتے ہیں ، لہذا مذکورہ صورت میں  آپ سات حصوں  کے بجائے کل جانور کے چھ حصے بنالیں   جس میں دو ، دو حصے آپ   اور آپ کے بیٹے کے  ہو جائیں گے اور  ایک ایک حصہ آپ کی بیوی اور بیٹی کا ہو جائے گا ۔

(2) مذکورہ بات  درست نہیں  ہے کیونکہ عقیقہ تمام احکام میں قربانی کی طرح ہے۔

المعجم الصغير للطبرانی (1/ 150رقم الحدیث:229) میں ہے:

حدثنا إبراهيم بن أحمد بن مروان الواسطي، حدثنا عبد الملك بن معروف الخياط الواسطي، حدثنا مسعدة بن اليسع، عن حريث بن السائب، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من ولد له غلام ‌فليعق عنه من الإبل أو البقر أو الغنم» .

فتح الباری  لابن حجر (9/ 593)  میں ہے:

والجمهور على ‌إجزاء ‌الإبل ‌والبقر أيضا وفيه حديث عند الطبراني وأبي الشيخ عن أنس رفعه يعق عنه من الإبل والبقر والغنم ونص أحمد على اشتراط كاملة وذكر الرافعي بحثا أنها تتأدى بالسبع كما في الأضحية والله أعلم.

اعلاء السنن(17/177 ) میں ہے:

من ولدله غلام فلیعق عنه من الابل او البقر او الغنم دلیل علی جواز العقيقة ببقرۃ كاملة او بدنة  کذالک.

اعلاء السنن (17/119) میں ہے:

ولو ذبح بدنة أو بقرة عن سبعة أولاد أو اشترك فيها جماعة جاز.

بدائع الصنائع (4/209) میں ہے:

ولو أرادوا القربة الأضحية أو غيرها من القرب أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجبت ‌على ‌البعض ‌دون ‌البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة والقران وهذا قول أصحابنا الثلاثة (إلى أن قال)(ولنا) أن الجهات وإن اختلفت صورة  فهي في المعنى واحد؛ لأن المقصود من الكل التقرب إلى الله  عز شأنه  وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب إلى الله تعالى عز شأنه  بالشكر على ما أنعم عليه من الولد، كذا ذكر محمد رحمه الله في نوادر الضحايا.

فتاویٰ ہندیہ (9/66) میں ہے:

ولو أرادوا القربة  الأضحية أو غيرها من القرب  أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب ‌على ‌البعض ‌دون ‌البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة عن شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة أو القران وهذا قول أصحابنا الثلاثة رحمهم الله تعالى، وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل، كذا ذكر محمد  رحمه الله تعالى في نوادر الضحايا

فتاوی محمودیہ (26/ 387) میں ہے:

سوال:عقیقہ بچہ کی پیدائش کے کتنے روز کے بعد سنت ہے۔

جواب:اگر ساتویں روز نہ کرسکے توچو دھویں روز ورنہ اکیسویں روز علیٰ ہٰذا لقیاس پیدائش سے ایک روز پہلے(یعنی ساتویں روز)پھر ساتویں ماہ میں پھرساتویں سال میں غرض کہ عدد کی رعایت بہتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved