- فتوی نمبر: 32-242
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
چار بھائی ہیں ان چار بھائیوں نے مشترکہ کاروبار کیا ان میں سے تین بھائی کچھ عرصہ پہلے فوت ہوگئے ہیں ،ان بھائیوں میں سے ایک بھائی زید باقی دونوں بھائیوں سے پہلے فوت ہوا، اس کی اولاد بالکل نہیں نہ بیٹا اور نہ بیٹی۔ پوچھنا یہ تھا کہ اب زید کی وراثت تقسیم کرتے وقت اس کی بیوہ کو کتنا حصہ ملے گا اور رفیق کی دو ماں شریک سوتیلی بہنیں بھی ہیں، ان سوتیلی بہنوں کو کتنا ملے گا؟ اور باقیوں کو کتنا کتنا ملے گا؟ والدین ان تینوں بھائیوں سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید صاحب کی وراثت کے کل 36 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 9 حصے (25 فیصد) بیوی کو، اور 5-5 حصے (13.88 فیصد) ہر بھائی کو اور 6-6 حصے (16.66 فیصد) ماں شریک ہر بہن کو ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
12×3=36
| بیوی | 3 بھائی | 2 ماں شریک بہن |
| 4/1 | عصبہ | 3/1 |
| 3 | 5 | 4 |
| 3×3 | 5×3 | 4×3 |
| 9 | 15 | 12 |
| 9 | 5+5+5 | 6+6 |
نوٹ: جو دو بھائی زید کے بعد فوت ہوئے ہیں ان کا حصہ ان کے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جس کی تفصیل ان دونوں کے ورثاء کی تفصیل بتا کر معلوم کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved