- فتوی نمبر: 34-278
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حرمت مصاہرت
استفتاء
مفتی صاحب میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتی ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ میرے بیٹے کی عمر تقریبا 15 سال ہے، ایک دفعہ وہ میرے پاؤں دبا رہاتھا اور پاؤں پر تیل لگا رہا تھا میں کچھ نیند میں تھی وہ میرا پاؤں اپنی ران پر رکھ کر اونچا کر کے تیل لگا رہا تھا مجھے کچھ دیر اس کے ہاتھ پھیرنے میں شک سا گزرا کہ اس کی نیت درست نہیں لگ رہی، میں نے شیطانی خیال سمجھ کر اسے کچھ نہ کہا لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے کچھ گیلا محسوس ہوا تو میں نے فورا اپنا پاؤں کھینچ لیا اور اسے زور سے تھپڑ مارا اور کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ وہ رونے لگا اور معافی مانگنے لگا اور کہنے لگا کہ میری نیت میں کچھ غلط خیال آرہا تھا اور اسی وجہ سے وہیں بیٹھے بیٹھے غسل فرض ہوگیا مجھے معاف کردیں، پہلے ایسا کچھ کبھی نہیں ہوا۔ میں نے شوہر سے چھپ کر یہ مسئلہ مسجد کے امام صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کا نکاح ختم ہوچکا ہے لیکن آپ دار الافتاء سے فتویٰ لیں۔ اس لیے آپ سے پوچھ رہی ہوں، ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ کوئی گنجائش ہو تو بتائیں، ہم میاں بیوی بہت پریشان ہیں اور بیٹا کئی دن سے پریشانی میں نہ کچھ کھا رہا ہے اور نہ پی رہا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی اور نکاح بدستور قائم ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں زیادہ سے زیادہ مس بالشہوت پایا گیا ہے اور مس کی جس صورت میں مرد کو انزال ہو جائے اس صورت میں مس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔
ہدایہ (2/329) میں ہے:
و لو مس فأنزل … و الصحيح أنه لا يوجبها (أي الحرمة) لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلی الوطئ.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved