- فتوی نمبر: 34-346
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
ایک بچے کا مقابلہ تھا اور مقابلے کی ایک تاریخ متعین ہوئی تھی تو اس کی ماں نے منت مانی تھی کہ جس دن میرے بیٹے کا مقابلہ ہوگا میں اس دن روزہ رکھوں گی اس کی ماں نے اس تاریخ کو روزہ رکھ لیا لیکن اس دن اس کا مقابلہ نہ ہوا کسی وجہ سے موقوف ہو گیا اور پھر دوبارہ اس کی نئی تاریخ طے ہوئی تو اب اس عورت کو دوبارہ سے روزہ رکھنا پڑے گا یا وہ پہلے والا روزہ کافی ہو جائے گا جبکہ جب دوسری نئی تاریخ مقرر ہوئی ہے تو اس کی کہیں قریب رشتہ داروں میں ضیافت بھی ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔سائل کون ہے؟2۔نذر کے الفاظ منہ سے کہے تھے یا صرف ارادہ کیا تھا؟
جواب وضاحت: 1۔سائل عورت ہے جو رشتے میں اس لڑکے کی ماں ہے اس نے منت مانی تھی۔2۔ صرف دل ميں ارادہ کیا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں عورت نے چونکہ روزہ رکھنے کی صرف نیت کی تھی زبان سے الفاظ نہیں کہے تھے اور صرف نیت کرنے سے منت نہیں ہوتی اس لیے مذکورہ صورت میں کوئی روزہ لازم نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع (4/226) میں ہے:
فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: ” لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved