• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیٹیوں اور فوت شدہ بیٹے کے ورثاء میں وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

میرے (زینب کے ) والد صاحب (زید) کا انتقال ہوا، والد صاحب کے ترکہ میں ایک عدد  دکان ہے،  میری والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے اور والدہ کا انتقال 1998 میں والد صاحب کے بعد ہوا ، والد صاحب کے والدین کا انتقال بھی والد سے پہلے ہوا تھا اور والدہ کے والدین بھی والدہ سے پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ ورثاء میں ایک بیٹا  اور تین بیٹیاں تھیں ، بیٹا والد صاحب  اور والدہ کے فوت ہونے کے بعد فوت ہوا، بیٹے کے ورثاء میں بیوی، دو بیٹیاں ہیں۔ہمارے والد صاحب کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کل ترکہ کے 360 حصے کیئے جائیں گے جن میں سے 82 حصے( 22.77 فیصد  فی کس) مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو اور 18 حصے( 5 فیصد ) مرحوم کے فوت شدہ بیٹے کی بیوی کو اور 48 حصے( 13.33 فیصد  فی کس) مرحوم کے فوت شدہ بیٹے کی ہر ایک  بیٹی کو ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved