- فتوی نمبر: 32-336
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
زید کا انتقال ہوا، اس کی ایک بیٹی اور چار بیٹے تھے، موجودہ ورثاء میں تین بیٹےاور ایک بیٹی حیات ہے۔زید کے والدین، بیوی اور ایک بیٹا زید کی زندگی میں ہی فوت ہوچکے ہیں۔ زید کا جو بیٹا فوت ہوگیا ہے اس کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ زید کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ زید کے بیٹوں اور بیٹی کو کتنا حصہ ملے گا؟ اور زید کے پوتے اور پوتیوں کو کتنا حصہ ملے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم زید کی وراثت کے 7حصے کئے جائیں گےجن میں سے 2-2حصے مرحوم کے تینوں بیٹوں کو دیئے جائیں گے اور ایک حصہ مرحوم کی بیٹی کو دیا جائے گا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
7
| 3 بیٹے | 1 بیٹی | 1 پوتا | 2 پوتیاں |
| 2+2+2 | 1 | محروم |
نوٹ:جو بیٹا والد کی زندگی میں وفات پا چکا ہےاس کو والد کی وراثت میں سے کچھ حصہ نہیں ملے گا کیونکہ وارث بننے کے لئے ضروری ہےکہ وارث مورث کی وفات کے وقت زندہ ہو نیز بقیہ بیٹوں کی موجودگی میں فوت شدہ بیٹے کی اولاد (زید کے پوتےاور پوتیاں)محروم ہوں گی ان کو میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ قریبی وارث کی موجودگی میں دور والا وارث محروم ہوتا ہے۔
شامی(10/543)میں ہے:
أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث
در مختار (10/550)میں ہے:
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت، ثم أصله، ثم جزء أبيه، ثم جزء جده. (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب، فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل).
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved