• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بھائی کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں بھتیجوں اور بہنوں کا حصہ

استفتاء

میرے والدین کا انتقال ہوچکا ہے ہم دو بہنیں اور دو بھائی تھے، دونوں بھائیوں کا انتقال ہوچکا ہے بڑے بھائی کی ایک بیوی اور تین بچے (ایک بیٹی، دو بیٹے)  ہیں ، چھوٹے بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے  ان کی بیوی تقریبا  28/29 سال پہلے پاکستان چھوڑ کر امریکہ چلی گئی تھی ، طلاق نہیں ہوئی تھی چھوٹے بھائی کی زمین ہے جوکہ  فروخت کرنی ہے۔ آپ سے معلوم کرنا ہے کہ چھوٹے بھائی کی  زمین میں ان کی بیوی کا کتنا فیصد، بہنوں کا کتنا فیصد اور بڑے بھائی کے بچوں  کا کتنا فیصد حصہ بنتا ہے؟

تنقیح:   والدین دونوں بھائیوں سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔ نیز بڑا بھائی چھوٹے بھائی سے پہلے فوت ہوا  ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کی  کل جائیداد کے 24 حصے کیے جائیں گے  جن میں سے 6 حصے (25 فیصد) مرحوم کی بیوی کو،8-8 حصے (33.33 فیصد) مرحوم کی  ہر ایک بہن کو، 1-1 حصہ (4.16 فیصد) مرحوم کے ہر ایک بھتیجے کو  ملے گا باقی مرحوم کی بھتیجی کو کچھ نہیں ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

12×2=24

بیوی2 بہنیں2 بھتیجے1 بھتیجی
4/13/2عصبہمحروم
381
3×28×21×2
6162
68+81+1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved