• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم

استفتاء

مسئلہ یہ ہے کہ عمرو کی دو بیویاں ہیں، ایک بیوی کا نام فاطمہ اور دوسری بیوی کا نام عائشہ  ہے پھر عمرو کے  فاطمہ  سے دوبچے ہیں ایک بیٹا ہے جس کا نام زید ہے اور ایک بیٹی ہے جس کا نام زینب ہے۔  عمرو کا عائشہ سے بھی ایک بیٹا ہے جس کا نام بکر ہے۔ زینب کی ایک بیٹی ہے جس کا نام حفصہ ہے، حفصہ کی ایک بیٹی ہے جس کا نام کلثوم ہے۔ مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ کیا کلثوم کا نکاح بکر سے ہوسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں عائشہ کے بیٹے بکر کا نکاح حفصہ کی بیٹی کلثوم سے جائز نہیں ہے۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں چونکہ زینب  بکر کی باپ شریک  بہن ہےاور باپ شریک  بہن کی اولاد سے اور اولاد کی اولاد سے نکاح درست نہیں ہے لہذا مذکورہ صورت میں بکر کا نکاح کلثوم کے ساتھ جائز نہیں ہے۔

شامی(4/107)میں ہے:

‌وفروع ‌أبويه، وإن نزلن فتحرم بنات الإخوة والأخوات وبنات أولاد الإخوة والأخوات، وإن نزلن

فتاوی قاضی خان(2/19)میں ہے:

وكذا الاخوات من اي جهة كن وبنات الاخوات وان سفلن

فتاوی رحیمیہ(8/218)میں ہے:

سوال : عبد الوہاب اپنی علاتی ( باپ شریک ) بہن کی لڑکی کی لڑکی بلقیس سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب :حقیقی اور علاتی اور اخیافی تینوں قسم کی بہنوں کی لڑکیاں (بھا نجیاں ) اور ان لڑکیوں (بھانجیوں ) کی بیٹیاں بھی حرام ہیں لہذا عبدالوہاب کا اپنی علاتی بہن کی لڑکی کی لڑکی بلقیس کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا۔

فتاوی حقانیہ (4/348)میں ہے:

سوال: زید زینب کا علاتی بھائی ہے زینب کی بیٹی رقیہ ہے، رقیہ کی بیٹی کلثوم ہے ، تو کیا زید کا نکاح کلثوم کے ساتھ صحیح ہے یا  نہیں ؟

الجواب : اپنے والدین کے کسی بھی فروع (یعنی اولاد جس درجے میں بھی ہو) سے نکاح کرنا درست نہیں، لہذا زید کا نکاح کلثوم کے ساتھ جائز نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved