• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی، 6 بیٹوں اور 3 بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

ایک شخص کی کل جائیداد 13 کنال زمین  ہے، اس  کے 6 بیٹے اور 3 بیٹیاں  ہیں،  اس شخص کے انتقال کےبعد  بیٹیاں شرعی حصے کا مطالبہ نہیں کرتی ، اب سارے  بھائی انکو حصہ دینا چاہتے  ہیں تو اس صورت میں کس طرح حصہ دیا جائے گا؟

وضاحت مطلوب ہے: شخصِ مرحوم کے انتقال کے وقت 6 بیٹوں اور 3 بیٹیوں کے علاوہ مرحوم کے والدین اور بیوی حیات تھی یا نہیں؟

جواب وضاحت: مرحوم کے والدین حیات نہیں، بیوہ حیات ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کل جائیداد کے 120 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 15 حصے (12.5 فیصد) بیوی کو، ، 14 حصے (11.666 فیصد فی کس) ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے (5.833 فیصد فی کس) ملیں گے۔

اس حساب سے  مرحوم کی بیوی کو 32.5 مرلے، ہر ایک بیٹے کو 30.333 مرلے اور ہر ایک بیٹی کو 15.166 مرلے ملیں گے۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

15×8=120

بیوی6 بیٹے3 بیٹیاں
8/1عصبہ
17
1×157×15
15105
1514+14+14+14+14+147+7+7

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved