- فتوی نمبر: 35-201
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے بہنوئی کا انتقال ہوا ہے، مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ ، چار بیٹیاں ، دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، بیٹا کوئی نہیں ہے ۔ مرحوم کے والدین بھی پہلے ہی فوت ہو چکے ہیں۔ ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کے کُل ترکہ کے 216 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوہ کو 27 حصے (12.5 فیصد) ہر ایک ہر بیٹی کو 36 حصے(666 .16 فیصد فی کس) ، ہر ایک بھائی کو 10 حصے (4.62 فیصد فی کس) اور ہر ایک بہن کو پانچ حصے(314 .2 فیصد فی کس) ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24×9=216
| بیوی | 4بیٹیاں | 2 بھائی | 5بہنیں |
| ثمن | ثلثان | عصبہ | |
| 3 | 16 | 5 | |
| 3×9 | 16×9 | 5×9 | |
| 27 | 144 | 45 | |
| 27 | 36+36+36+36 | 10+10 | 5+5+5+5+5 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
