• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی کا اپنی اور شوہر کی وفات کے بعد رقم مسجد میں دینے کی وصیت کرنا

استفتاء

میری اہلیہ کا چند روز قبل انتقال ہو گیا ہے ۔ان کی وراثت سے متعلق کچھ سوالات ہیں براہ کرم شریعت کی روسے رہنمائی فرمائیں۔(1) ورثا میں شوہر چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔(2) گھر کے استعمال کی اشیاء مثلا برتن ، بستر اور مرحومہ کے کپڑے اور جوتے وغیرہ  کس طرح تقسیم ہوں گے ؟(3) زیور کس طرح سے تقسیم ہوگا  ؟(4) مرحومہ کی زمین فروخت کرنے کے بعد کچھ رقم ملی تھی جو کہ تقریبا 20 لاکھ روپے ہے اس رقم کو میں نے ایک کاروبار میں لگایا ہوا ہے جہاں سے سہ ماہی منافع آتا ہے جو میں اور میری اہلیہ استعمال کرتے تھے ۔کیا اس رقم کو فوری طور پر تقسیم کرنا ضروری ہے یا میں اپنی زندگی میں اس کا منافع استعمال کر سکتا ہوں ؟ میں نے اور میری اہلیہ نے یہ طے کیا تھا کہ یہ رقم ہم اپنی زندگی میں استعمال کریں گے اور ہم دونوں کی وفات کے بعد یہ رقم کسی مسجد کو وقف ہو جائے گی تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟

تنقیح : اہلیہ کے والدین پہلے ہی وفات پاگئے تھے ۔مرحومہ نے مذکورہ پیسوں کے متعلق صرف شوہر ہی سے بات کی تھی  کہ اگر پہلے  میرا انتقال ہوگیا تو  آپ اپنی زندگی تک اس رقم سے آنے والے نفع  کو استعمال کرلینا پھر   یہ پیسے آپ  کے بعد مسجد کو دے دیے جائیں اور اگر  آپ کا انتقال پہلے ہوگیا تو ان پیسوں ( نفع) کو میں اپنی زندگی میں استعمال کروں گی میری وفات کے بعد یہ پیسے( کاروبار میں لگی ہوئی اصل رقم  مع نفع ) مسجد میں دے دیے جائیں گے ۔ ان کے انتقال کے بعد شوہر نے بیٹوں کو بٹھا کر جب اس کا تذکرہ کیا   تو  بیٹوں نے والدہ کی اس   وصیت  پر  رضامندی ظاہر کی اور کسی نےکوئی اعتراض نہیں  کیا  ۔اور بیٹیوں سے  باقاعدہ پوچھا تو نہیں  گیالیکن ان کو  بھی اعتراض نہیں   ہے۔تمام بچے بالغ ہیں اور شادی شدہ ہیں۔

نیز مرحومہ کے ترکہ میں ان پیسوں  کے  علاوہ  کچھ کپڑے ، برتن  اور بستر وغیرہ ہیں اور ناک میں پہننے کی ایک سونے کی کیل ہے  ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)مذکورہ صورت میں  مرحومہ کے  کل ترکہ کے 16 حصے کیے جائیں گے  جن میں سے  شوہر کو 4 حصے ( 25 فیصد)، چاروں بیٹوں میں سے  ہر ایک کو 2 حصے ( 12.5 فیصد)  اور چاروں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 1 حصہ (6.25 فیصد)   دیا جائے گا۔

(2,3) مرحومہ کے زیر استعمال  تمام   اشیاء اور زیور  کی قیمت لگوا   کر ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق   ان کو تقسیم کیا جائے گا ۔اور اگرورثاء  چاہیں تو   باہمی رضامندی سے یہ اشیاء   آپس میں بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔

(4)مرحومہ  نے 20 لاکھ کی رقم مسجد میں دینے کی جو  وصیت کی ہے یہ  اصلاً   ان کے  کل ترکہ کے صرف  ایک تہائی   میں  نافذ ہوگی ۔ البتہ اگر تمام  ورثاء اس پر  راضی ہوں تو ساری رقم بھی  حسب وصیت مسجد میں دی جاسکتی ہے ۔ اوراگر کسی وارث کی اجازت نہ ہو تو وہ  ایک تہائی سے زائد میں اپنے حصے کی رقم لے سکتا ہے۔نیز مرحومہ نے  کاروبار میں لگائی گئی  رقم کے نفع کو استعمال کرنےکی جو وصیت  اپنے شوہر کے لیے کی ہے یہ اپنے وارث کے لیے وصیت ہے جو کہ  شرعاً معتبر نہیں ۔لیکن چونکہ تمام ورثاء اس پر  بھی راضی ہیں اس  لیے شوہر اس رقم کو وصیت کے مطابق استعمال کرسکتا ہے ۔

احكام الاوقاف للامام خصاف (ص20 ) میں ہے :

قلت فلو قال اوصيت بغلة ارضي هذه لفلان ما كان حيا  فاذا مات كانت الغلة للمساكين  والارض تخرج من ثلثه قال هذا جائز وتكون غلة هذه الارض جارية لفلان على ما اوصى له فاذا مات صارت الغلة للمساكين ولا ترجع ميراثا .

درمختار مع ردالمحتار (6/ 651) میں ہے :

کتاب الوصایا ….( وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) ….. (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved