• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی کے ہاتھ سے استمناء کا حکم

استفتاء

میری شادی کو تقریباً 10 سال ہو رہے ہیں۔ اور میرے 3 بیٹے ہیں۔ میری اور میرے شوہر   کی  اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے۔ لیکن تقریباً 2 سال سے وہ فحش موویز دیکھ کر اپنی خواہش اپنے ہاتھ سے پوری کر لیتے ہیں یا اگر میں حیض سے ہوں تو میرے ہاتھ سے اپنی خواہش پوری کروانا چاہتے ہیں۔ اس بات پر اکثر میرا ان سے جھگڑا بھی ہو جاتا ہے۔ کچھ وقت وہ کنٹرول بھی کرتے ہیں لیکن پھر وہ اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں نے ان کو بہت سمجھایا بھی اور اکثر بیانات بھی سنوائے، لیکن وہ اس عادت سے باز نہیں آتے۔ ابھی 7 اپریل کو میرے ہاں چوتھے بیٹے کی ولادت ہوئی تھی، سی سیکشن کے ذریعے، اور 10 اپریل کو اس کی وفات ہو گئی۔ اور میرے ہسبینڈ ابھی بھی یہی چاہتے ہیں کہ یا تو میں ان کو ہاتھ سے فارغ کروں یا پھر وہ خود۔ اب آپ بتائیں کہ کیا میں ایسا کر سکتی ہوں؟ یا پھر میں ان سے علیحدگی اختیار کر لوں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شوہر کا فحش ویڈیوز دیکھنا بڑے گناہوں میں شامل ہے اور پھر اس کے بعد اپنے ہاتھ سے اپنی خواہش پوری کرنا بھی بڑا گناہ ہے حدیث میں ایسے شخص کو ملعون کہا گیا ہے تاہم   اگر فحش  موویز دیکھے بغیر شہوت کا غلبہ ہو اور بیوی سے (حیض وغیرہ کی وجہ سے) ہمبستری نہ ہوسکتی ہو تو بیوی کے ہاتھ سے فارغ ہونا بھی جائز ہے۔

شامی (3/426) میں ہے:

وكذا ‌الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه

قوله: (ولو خاف الزنى إلخ) الظاهر أنه غير قيد ‌بل ‌لو ‌تعين ‌الخلاص من الزنى به وجب؛ لأنه أخف وعبارة الفتح فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب اهـ زاد في معراج الدراية وعن أحمد والشافعي في القديم الترخص فيه وفي الجديد يحرم ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ولعل المراد به كراهة التنزيه فلا ينافي قول المعراج يجوز تأمل وفي السراج إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث أرجو أن لا وبال عليه وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ.

بقي هنا شيء وهو أن علة الإثم هل هي كون ذلك استمتاعا بالجزء كما يفيده الحديث وتقييدهم كونه بالكف ويلحق به ما لو أدخل ذكره بين فخذيه مثلا حتى أمنى، أم هي سفح الماء وتهييج الشهوة في غير محلها بغير عذر كما يفيده قوله وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة إلخ؟ لم أر من صرح بشيء من ذلك والظاهر الأخير؛ لأن فعله بيد زوجته ونحوها فيه سفح الماء لكن بالاستمتاع بجزء مباح كما لو أنزل بتفخيذ أو تبطين بخلاف ما إذا كان بكفه ونحوه وعلى هذا فلو أدخل ذكره في حائط أو نحوه حتى أمنى أو استمنى بكفه بحائل يمنع الحرارة يأثم أيضا ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية وقال فلم يبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما

الجوہرۃ النیرۃ (2/155) میں ہے:

ولو ‌مكن ‌امرأته أو أمته من العبث بذكره فأنزل فإنه مكروه ولا شيء عليه

درر الحکام شرح غرر الاحکام (2/66) میں ہے:

ولو ‌أمكن ‌امرأته أو أمته من العبث بذكره فأمنى فإنه مكروه عند بعضهم ولا شيء عليه كما في السراج

احسن الفتاویٰ (8/264) میں ہے:

سوال: بیوی کے  پیٹ ران اور ہاتھ سے استمتاع کرتے ہوئے انزال کرنا جائز ہے یا نہیں؟  نیز بیوی کا شوہر کے ہاتھ سے استمتاع کے بعد انزال کا کیا حکم ہے ؟

جواب : بضرورت تسکین بلا کراہت جائز ہے،  بلا ضرورت مکروہ تنزیہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved