- فتوی نمبر: 26-342
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں زید لاہور کا رہائشی ہوں، میری بیوی سے میرا جھگڑا ہوا اور بیوی سے بحث و تکرار کے دوران میں نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے کہ ’’میں طلاق دیتا ہوں،میں طلاق دیتا ہوں ‘‘اس کے ایک دن بعد غصے میں میسج بھیجا کہ ’’میں طلاق دیتا ہوں‘‘ یہ میسج صرف بیوی کو ڈرانے کے لیے کیا تھا، طلاق کی نیت نہیں تھی، پھر خاندان کے ایک اہل حدیث عالم سے مشورہ کیا تو اس عالم نے کہا کہ ’’ایک ہی طلاق ہوئی ہے‘‘ اور تین دن کے بعد ہماری صلح ہو گئی، اس طلاق کا کفارہ بھی دیا تھا، ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا تھا، پھر زندگی گزرنی شروع ہوگئی، 8ماہ بعد پھر لڑائی جھگڑا ہوا، میں نے طلاق کے تین پیپر تیار کروائے اور ایک پر سائن انگوٹھے کر کے وہ بیوی کو بھیج دیا ، بعد میں یہ طلاقنامے پھاڑ دیے تھے اس لیے موجود نہیں ہیں، اسی اہل حدیث مولوی صاحب نے فتویٰ دیا کہ دو طلاقیں ہو گئی ہیں، اس وقت میری بیگم حاملہ تھی، میں نے دوبارہ کفارہ دیا اور صلح کر کے اہل حدیث عالم کے کہنے پر زندگی گزارنی شروع کر دی، اچانک میرے نقصانات ہونا شروع ہو گئے، پھر آج میرے دل میں خیال آیا اور اللہ والے بھی یہی کہتے ہیں کہ زنا فنا کرتا ہے، میں نے اپنی زندگی میں غور کیا تو میں نے دیکھا کہ اس غلطی کے علاوہ میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو میرے لئے باعث نقصان ہو، اس وقت ہماری زندگی ہنسی خوشی گزر رہی ہے لیکن میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سےآپ کی بیوی آپ کے اوپر حرام ہو گئی ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے، اور آپ دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا جائز نہیں ، لہذا آپ دونوں فورا علیحدگی اختیار کریں اور اب تک جو میاں بیوی کی حیثیت سے رہے ہیں اس پر توبہ و استغفار کریں۔
توجیہ: جب شوہر نے بیوی سے دو مرتبہ کہا کہ ’’میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں‘‘ تو دو رجعی طلاقیں واقع ہو گئیں کیونکہ یہ الفاظ طلاق کے لیے صریح ہیں، پھر اس کے بعد جب شوہر نے بیوی کو غصے میں یہ میسج کیاکہ ’’میں طلاق دیتا ہوں‘‘ تو الصریح یلحق الصریح کے تحت تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی اور بیوی شوہر پر حرام ہو گئی، کیونکہ ہماری تحقیق میں میسج کی تحریر کتابت مستبینہ غیرمرسومہ ہے اور کتابت مستبینہ غیرمرسومہ سے شوہر کی طلاق کی نیت ہو یا شوہر نے غصہ یا مذاکرہ طلاق میں طلاق لکھی ہو تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
نوٹ: تین طلاقیں چاہے اکھٹی دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں بہر صورت تین ہی ہوتی ہیں ۔جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم وتابعین ؒ اور ائمہ اربعہ ؒ کا یہی مذہب ہے۔
مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال ……… اما انت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما امرك به من طلاق امرأتك وبانت منك
’’نافع رحمہ اللہ سے روایت ہےکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (اکٹھی تین طلاقیں دینے والے سے کہا ) تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی )تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (بتایا ہوا طریقہ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔‘‘
ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:
عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما فجاءه رجل فقال: انه طلق امراته ثلاثا. قال: فسكت حتى ظننت انه رادها اليه.
ثم قال: ينطلق احدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وان الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا ) وانك لم تتق الله فلا اجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امراتك
’’مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو(اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا گنجائش ہے اس پر) عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر ) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے پھر انہوں نے فرمایا تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اےابن عباس اےابن عباس (کوئی راہ نکالیئے کی دہائی دینے لگتا ہے ) حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ومن یتق الله یجعل له مخرجا(جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں۔)‘‘
تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے) تو میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔
علامہ بدرالدین العینی رحمہ اللہ صحیح بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری (232/1)میں تحریر فرماتے ہیں :
مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفه واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة واخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم.
مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح ( جلد6صفحہ436) میں ہے:
قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابو حنيفه والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا…
وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا.
درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
فتاوی شامی (442/4) میں ہے:
قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا.
درمختار مع ردالمحتار (455/4) میں ہے:
وكذا يا طال بكسر اللام وضمها لأنه ترخيم أو أنت طال بالكسر وإلا توقف على النية،
(قوله وإلا توقف على النية) أي وإن لم يكسر اللام في غير المنادى توقف الوقوع على نية الطلاق: أي أو ما في حكمها كالمذاكرة والغضب كما في الخانية. وفي كنايات الفتح أن الوجه إطلاق التوقف على النية مطلقا لأنه بلا قاف ليس صريحا بالاتفاق لعدم غلبة الاستعمال ولا الترخيم لغة جائز في غير النداء، فانتفى لغة وعرفا فيصدق قضاء مع اليمين إلا عند الغضب أو مذاكرة الطلاق فيقع قضاء أسكنها أو لا، وتمامه فيه.
درمختار مع ردالمحتار (455/4) میں ہے:
(و) يقع (بباقيها) أي باقي ألفاظ الكنايات المذكورة، فلا يرد وقوع الرجعي ببعض الكنايات أيضا نحو: أنا بريء من طلاقك وخليت سبيل طلاقك وأنت مطلقة بالتخفيف، وأنت أطلق من امرأة فلان، وهي مطلقة، وأنت ط ا ل ق وغير ذلك مما صرحوا به (خلا اختاري) فإن نية الثلاث لا تصح فيه أيضا ولا تقع به ولا بأمرك بيدك ما لم تطلق المرأة نفسها كما يأتي (البائن إن نواها أو الثنتين)
(قوله بالتخفيف) أي تخفيف اللام، أما بالتشديد فهو صريح يقع به بلا نية كما مر في بابه (قوله وأنت أطلق من امرأة فلان) فإن كان جوابا لقولها إن فلانا طلق امرأته وقع ولا يدين لأن دلالة الحال قائمة مقام النية؛ حتى لو لم تكن قائمة لم يقع إلا بالنية نهر في باب الصريح عن الخلاصة فليس من الصريح وإلا لم يتوقف على النية، وعلله في الفتح بأن أفعل التفضيل ليس صريحا فافهم (قوله وهي مطلقة) أي والحال أن امرأة فلان مطلقة وإلا فلا يقع، وهذا القيد ذكره في البحر، لكن في الفتح في أول باب الصريح أنه لا فرق بين كونها مطلقة أو لا. قال: والمعنى عند عدم كونها مطلقة لأجل فلانة، يعني أن (من) في قوله من امرأة فلان للتعليل (قوله وأنت ط ل ق) قدمنا في باب الصريح عن الذخيرة تعليله بأن هذه الحروف يفهم منها ما هو المفهوم من صريح الكلام إلا أنها لا تستعمل كذلك، فصارت كالكناية في الافتقار إلى النية.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved