- فتوی نمبر: 35-397
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ گھر میں لڑائی ہوئی جیسے عام طور پر گھریلو لڑائیاں ہوتی ہیں ، اس لڑائی میں میرے سسر نے آتے ہی مجھے فیصلے کا بولا ، پھر اس کے بعد اس نے کہا کہ میں آپ کے چاچو کو بلانے کے لیے جا رہا ہوں چاچو کا نام ظفر اقبال صاحب ہے،جسے وہ لے آیا میرے چاچو کو لے کے آتے ہی مجھے مار نے پیٹنے لگا میرے اوپر بہت زیادہ تشدد کرنے لگا، پھر میں نے غصے میں کہا کہ” طلاق ،طلاق ،طلاق”
میری بیوی پہلے دو ماہ کی حاملہ تھی اس کے بعد قدرتاً میری بیوی کا حمل ضائع ہو گیا ، جب میں نے طلاق کا لفظ تین دفعہ بولا تو تقریباً تین چار لوگ موقع پر موجود تھے، میرے سسر، میرے والد اور میرے بھائی موجود تھے لیکن میری بیوی سامنے نہیں تھی اور نہ ہی میں نے بیوی کا نام لے کر طلاق ،طلاق بولا۔ میرے سسر کہہ رہے تھے کہ فیصلہ دو پھر باہر چلے گئے پھر واپس آئے اور میرے اوپر تشدد کرنے لگے جیسا کہ پہلے میں نے بتایا ہے ، مفتی صاحب کیا اس طرح تشدد کی وجہ سے بیوی کی غیر موجودگی میں طلاق دینے سے طلاق ہو جائے گی ؟ میرے اوپر میری بیوی حرام ہوگی یا نہیں ؟ میں بہت پریشان ہوں اگر رجوع کرنے کااختیار ہے تو آپ مجھے بتا دیں ۔
وضاحت مطلوب ہے: طلاق کے الفاظ بولتے ہوئے آپ کے ذہن میں کیا تھا اور نیت کیا تھی؟ کیا اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت تھی؟ یا ویسے ہی جان چھڑانے کے لیے لفظ بولا تھا؟
جواب وضاحت: طلاق دینے کی نیت تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
توجیہ: طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کا سامنے ہونا یا طلاق کے الفاظ سننا ضروری نہیں لہٰذا مذکورہ صورت میں بیوی کے سامنے نہ ہونے اور طلاق کے الفاظ نہ سننے کے باوجود طلاق ہوگئی ہے اور اسی طرح اگرچہ شوہر نے طلاق کے الفاظ میں بیوی کا نام نہیں لیا لیکن چونکہ شوہر کی نیت بیوی کو طلاق دینے کی ہی تھی لہٰذا معنیً نسبت پائی جارہی ہے جو طلاق واقع ہونے کے لیے کافی ہے۔
درمختار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة
شامی(4/444) میں ہے:
ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ. على أنه في القنية قال عازيا إلى البرهان صاحب المحيط: رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر فقال: إني حلفت بالطلاق أني لا أشرب وكان كاذبا فيه ثم شرب طلقت. وقال صاحب التحفة: لا تطلق ديانة اهـ وما في التحفة لا يخالف ما قبله لأن المراد طلقت قضاء فقط، لما مر من أنه لو أخبر بالطلاق كاذبا لا يقع ديانة بخلاف الهازل، فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحا
امداد الفتاوی(2/427) میں ہے:
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں میں نے حالت غصہ میں یہ کلمے کہے ہیں( طلاق دیتا ہوں طلاق ،طلاق،)اور میں نے کوئی کلمہ فقرہ بالا سے زیادہ نہیں کہا اور نہ میں نے اپنی منکوحہ کا نام لیا اور نہ اس کی طرف اشارہ کیا اور نہ وہ اس جگہ موجود تھی اور نہ اس کی کوئی خطا ہے یہ کلمہ صرف بوجہ تکرار یعنی میری منکوحہ کی تائی کے نکلے جس وقت میرا غصہ فرو ہوا فوراً اپنی زوجہ کو لے آیا ان دو اشخاص میں ایک میرے ماموں اور ایک غیر شخص ہے اور مستورات ہے۔
جواب: کیونکہ دل میں اپنی ہی منکوحہ کو طلاق دینے کا قصد تھا لہذا تینوں طلاقیں واقع ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved