• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی کو تین دفعہ “میں نے تجھے طلاق دی” کہنے کا حکم

استفتاء

میں زید  ولد خالد نے اپنے گھر والوں کے بہکاوے میں آکر اپنی بیگم زینب ولد بکر کو 8 مارچ 2022ء کو اپنے ہوش و حواس میں تین بار طلاق دی ہے۔جبکہ میں ایسا کچھ کرنا نہیں چاہتا تھا ۔بس غصے اور بہکاوے میں آنے کی وجہ سے یہ قدم اٹھالیا۔جس کمرے میں طلاق دی تین چار افراد موجود تھے۔میری ایک بیٹی ہے جس کی عمر چار سال ہے اور ایک بیٹا ہے جس کی عمر دو سال ہےاب صورت حال کا آپ کفارہ بتائیں کیونکہ میں اور میری بیگم اور بچے ہم الگ نہیں  رہ سکتے ہم دوبارہ سے اپنے گھر میں خوش حالی دیکھنا چاہتے ہیں۔

وضاحت مطلوب ہے کہ:(1)طلاق کے لیے الفاظ کیا بولے تھے؟(2)طلاق دیتے وقت شوہرکے غصے کی کیفیت کیا تھی؟

جواب وضاحت(1)تین مرتبہ یہ الفاظ بولے تھےکہ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘(2)شوہرنے غصے میں کوئی خلاف عادت کام مثلاً توڑ پھوڑوغیرہ نہیں کیاتھا اور نہ ہی شوہر کی کیفیت ایسی تھی کہ اسے پتہ نہ ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی  ہے لیکن غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی اس سے خلاف عادت کوئی قول و فعل صادر ہوا ہے،غصے کی  ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے،اب نہ صلح ہوسکتی ہے اور نہ ہی رجوع کی گنجائش ہے۔

نوٹ: تین طلاقیں چاہے  اکھٹی دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں بہر صورت تین ہی ہیں ۔جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم وتابعین ؒ اور ائمہ اربعہ ؒ کا یہی مذہب ہے۔

مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:

 عن نافع عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال ……… اما انت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما امرك به من طلاق امرأتك وبانت منك

’’نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے (اکٹھی تین طلاقیں دینے والے سے کہا ) تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی )تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (بتایا ہوا طریقہ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔‘‘

ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:

عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما فجاءه رجل فقال: انه طلق امراته ثلاثا. قال: فسكت حتى ظننت انه رادها اليه.

 ثم قال: ينطلق احدكم فيركب الحموقة  ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وان الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا ) وانك لم تتق الله فلا اجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امراتك

’’مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص  ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو(اکٹھی)  تین طلاقیں دے دی  ہیں تو (کیا گنجائش ہے اس پر) عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر ) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے پھر انہوں نے فرمایا تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں  دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اےابن عباس اےابن عباس (کوئی راہ نکالیئے کی دہائی دینے لگتا ہے ) حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ومن یتق الله یجعل له  مخرجا(جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں۔)‘‘

تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا  (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ  کی بات ہے) تو میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔

علامہ بدرالدین العینی  رحمہ اللہ صحیح بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری (جلد1 صفحہ232 )میں تحریر فرماتے ہیں :

مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفه واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة واخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم

مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح ( جلد6صفحہ436) میں ہے:

قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابو حنيفه والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا…

وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه ‌يقع ‌ثلاثا(6/437)

درمختارمع رد المحتار(4/439)میں ہے:

وللحافظ ‌ابن ‌القيم ‌الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله اهـ……

(وبعد اسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

درمختار مع رد المحتار(4/509)میں ہے

‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق وقع الكل

(قوله ‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق

بدائع الصنائع(3/295)میں ہے:

وأما الطلقات ‌الثلاث ‌فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛لقوله عز وجل{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved