- فتوی نمبر: 26-382
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی زید ولد خالد نے اپنی بیوی سے جھگڑتے ہوئے اپنی علاقائی زبان میں اپنی بیوی کو تین مرتبہ کہا کہ ’’میں تینوں چھڈ دتا، میں تینوں چھڈ دتا،میں تینوں چھڈ دتا‘‘ (میں نے تمہیں چھوڑ دیا، میں نے تمہیں چھوڑ دیا، میں نے تمہیں چھوڑ دیا‘‘ جب کہ میری بیوی اس بات پر بضد ہے کہ آپ نے تین دفعہ کہا ہے کہ ’’میں نے تمہیں طلاق دی‘‘ لیکن میں حلفا اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نے لفظ ’’طلاق‘‘ استعمال نہیں کیا بلکہ ’’چھوڑنے‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، ہماری خواہش ہے کہ ہم مل کر زندگی گزاریں۔ مفتیان کرام سے استدعا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہے ہماری راہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شوہر کے بیان کے مطابق بھی تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے الفاظ کہ ’’میں تینوں چھڈ دتا، میں تینوں چھڈ دتا،میں تینوں چھڈ دتا‘‘ (میں نے تمہیں چھوڑ دیا، میں نے تمہیں چھوڑ دیا، میں نے تمہیں چھوڑ دیا‘‘ اصل کے اعتبار سے اگرچہ کنایہ ہیں لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے صریح کے حکم میں ہیں اور ان سے رجعی طلاق واقع ہوتی ہے لہذا ’’الصریح یلحق الصریح‘‘ کے تحت تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ۔
فتاوی شامی(4/519) میں ہے:
فإذا قال ” رهاكردم ” أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كان.
درمختار (4/528) میں ہے:
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved