- فتوی نمبر: 26-336
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
بیوی کا بیان:
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے مختلف مواقع پر مجھے طلاق کے الفاظ بولے ہیں 2013 میں حالت حمل میں ایک مرتبہ یہ الفاظ بولے کہ ’’تو میری ماں تو میری بہن‘‘ اس کے بعد میں خاوند کے گھر ہی رہی، پھر 2021 میں حیض کی حالت میں ایک مرتبہ یہ کہا کہ ’’جا میں نے تجھے طلاق دی ‘‘ میں اپنی ماں کے گھر چلی گئی اور دس دن بعد واپس آ گئی اور رجوع ہو گیا تھا، پھر 2022 میں کہا ’’جامیری بہن جا میرے گھر سے چلی جا‘‘ حالت حیض میں یہ کہا تھا، اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اور رجوع ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اگر ہو سکتا ہے تو اس کا کیا طریقہ ہے؟
شوہر کا بیان:
مجھے اس بیان سے اتفاق ہے اور تینوں واقعات میں میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتا آپ کے شوہر کی ان الفاظ سے کہ ’’ جا میرے گھر سے چلی جا‘‘ طلاق کی نیت نہیں تھی اور وہ طلاق کی نیت نہ ہونے پر آپ کے سامنے قسم بھی دیدیتا ہے تو ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی ہے اور عدت کے اندر رجوع ہو جانے کی وجہ سے نکاح باقی ہے ، اور اگر شوہر قسم کھانے سے انکار کرے تو آپ اپنے حق میں دو بائنہ طلاقیں شمار کریں گی، اور دوبارہ اکٹھے رہنے کے لیے کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہو گا۔
توجیہ: شوہر نے 2013 میں جب یہ کہا کہ ’’تو میری ماں تو میری بہن‘‘ تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ ان الفاظ سے طلاق کے وقوع کے لیے حروف تشبیہ اور طلاق کی نیت ہونا شرط ہے اور مذکورہ صورت میں یہ دونوں شرطیں نہیں پائی گئیں، پھر 2021 میں جب شوہر نے یہ کہا کہ ’’جا میں نے تجھے طلاق دی ‘‘ تو ان الفاظ سے ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی اور عدت کے اندر رجوع ہو جانے کی وجہ سے نکاح باقی رہا، پھر 2022 میں جب شوہر نے یہ کہا کہ ’’ جا میری بہن جا میرے گھر سے چلی جا‘‘ تو چونکہ مذکورہ جملہ کنایات طلاق کی پہلی قسم میں سے ہے جس سے طلاق کا واقع ہونا ہر حال میں نیت پر موقوف ہوتا ہے ، اور طلاق کی نیت نہ ہونے پر شوہر کو قسم دینی پڑتی ہے لہذا اگر شوہر قسم دے دے گا تو اس جملے سے کوئی طلاق واقع نہ ہو گی، اور اگر شوہر قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی اس جملے سے اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار کرے گی ۔
درمختارمع ردالمحتار (5/132) میں ہے:
( وإن نوى بأنت علي مثل أمي ) أو كأمي وكذا لو حذف علي، خانية ( براً أو ظهاراً أو طلاقاً صحت نيته ) ووقع ما نواه؛ لأنه كناية ( وإلا ) ينو شيئاً أو حذف الكاف (لغا) و تعين الأدنى أى: البر يعنى: الكرامة ، ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.
(قوله:حذف الكاف ) بأن قال أنت أمي، ومن بعض الظن جعله من باب زيد أسد، در منتقى عن القهستاني، قلت: ويدل عليه ما نذكره عن الفتح من أنه لا بد من التصريح بالأداة، (قوله: لغا )؛ لأنه مجمل في حق التشبيه، فما لم يتبين مراد مخصوص لا يحكم بشيء، فتح (قوله: ويكره الخ ) جزم بالكراهة تبعاً للبحر و النهر، والذي في الفتح: وفي أنت أمي لايكون مظاهراً، وينبغي أن يكون مكروهاً، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته: يا أخية مكروه، وفيه حديث رواه أبو داود أن رسول الله سمع رجلاً يقول لامرأته: يا أخية، فكره ذلك ونهى عنه، ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقول: هو ظهار؛ لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ يا أخية استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليعين ظهاراً حيث لم يبين فيه حكماً سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهاراً من التصريح بأداة التشبيه شرعاً، ومثله أن يقول لها: يا بنتي أو يا أختي ونحوه اه.
تاتارخانیہ ( 170/5) میں ہے:
إذا قال لها: ’’أنت أمي‘‘ یرید به الطلاق فهو باطل؛ لأنه کذب، وکذلک إذا قال إن فعلت کذافأنت أمي ولا نية له فهو باطل، وکذلک إن أراد به التحریم ففعل ذلک فهو باطل.
درمختارمع ردالمحتار (4/517) میں ہے:
(فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا.
درمختارمع ردالمحتار (4/521) میں ہے:
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا
و فى الشامية تحته: والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية
درمختارمع ردالمحتار (4/521) میں ہے:
والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى
درمختار (5/42) میں ہے:
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved