• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی، تین بیٹوں اور دو بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام میراث کے مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو تین بیٹے ، دو بیٹیاں اور ایک بیوی چھوڑ کر فوت ہوگیا ہے، اس کے والدین فوت ہوگئے ہیں اور میراث میں نقدی اور اٹھارہ دکانیں ہیں اس کی وفات کے بعد  اس کی وراثت موجود ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کی کل میراث(نقدی و جائیداد) کے 64 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوی کو  8 حصے ، ہر ایک بیٹے کو 14،14 حصے اور ہر ایک بیٹی کو 7،7 حصے ملیں گے۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

8×8=64

بیوی 3بیٹے 2بیٹیاں
ثمن عصبہ
8×1 7×8
8 56
8 14+14+14 7+7

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved