• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بوس وکنار والی عورت سے نکاح کا حکم

استفتاء

میرے گھر والے میرا رشتہ ایک لڑکی سے کر رہے ہیں،  اس میں میرے گھر والے راضی بھی ہیں لیکن میرا ایک وہم ہے کہ  اسی لڑکی کو  میں نے چوما ہے ، جماع وغیرہ نہیں کیا  ہے پھر میں نے توبہ بھی کر لی ہے اور تقریبا 10 بار استخارہ بھی کیا لیکن ذہن میں وہی بات ہے۔ برائے مہربانی کوئی رائے دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ لڑکی سے نکاح ہوسکتا ہے۔

توجیہ:حرمت مصاہرت اصول و فروع میں ثابت ہوتی ہے نہ کہ ماس اور ممسوسہ میں، لہذا مذکورہ صورت میں اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکاح درست ہے۔

ہدایہ(4/14) میں ہے:

ومن ‌مسته ‌امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها

شامی (4/113) میں ہے:

(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) …….. (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ….. (وأصل ماسته) …… (وفروعهن) مطلقا

(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال …….. وتقييده بالحرمات الأربع مخرج لما عداها

آپ کے مسائل اور ان کا حل(5/78 ) میں ہے:

 س۔ کسی عورت کے ساتھ کسی مرد کے ناجائز تعلقات ہو جائیں تو اس کے بعد اس عورت اور مرد کے درمیان نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟……الخ

ج۔ نکاح ہو سکتا ہے…… نکاح کے بعد ایک دوسرے کے لیے حلال ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved