• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

چار بیٹوں اور دو بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

ایک شخص کا انتقال ہوا، اس    نے میراث میں تین جریب اور 40 مرلہ زمین چھوڑی ہے،  اس  شخص کی دو بیویاں تھیں ،  دونوں  بیویاں فوت ہوچکی ہیں، سب سے پہلے اس شخص کی  پہلی بیوی کا انتقال ہوا، پہلی بیوی کے انتقال کے وقت اس کے والدین زندہ تھے، پھر 2007 میں  دوسری بیوی کا انتقال ہوا ، اس کے انتقال کے وقت اس کے والدین فوت ہوچکے تھے اور  پھر 2009 میں  اس شخص (شوہر ) کا انتقال ہوا۔اس شخص کے انتقال کے وقت اس کے والدین  فوت ہوچکے تھے،   پہلی بیوی سے دو بیٹے ہیں اور دوسری بیوی سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، اب اس شخص کی وراثت کیسے  تقسیم ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کے ترکے کے 10 حصے کیے جائیں گے جن میں سے  دو، دو  حصے( یعنی  20 فیصد  فی کس) چار بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو اور ایک، ایک  حصہ ( یعنی 10 فیصد  فی کس) دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

10

4 بیٹے 2 بیٹیاں
عصبہ
2+2+2+2 1+1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved