• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

چالیس دن سے زیادہ زیر ناف بال نہ کاٹنا مکروہ ہے؟ اور کیا اس حالت میں نماز وروزہ درست ہے؟

استفتاء

1۔اگر زیر ناف یا بغل کے بال 40 دن سے بڑھ جائیں یعنی دو ماہ  تو یہ سنا ہے کہ مکروہ ہوتا ہے لیکن کیا اس حالت میں نماز وروزہ درست ہوتا ہے یا نہیں؟

2۔ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔روزہ و نماز ہوجائے گی لیکن بال نہ کاٹنے کا گناہ ہوگا۔

2۔مکروہ تحریمی ہوتا ہے۔

شامی (6/406) میں ہے:

(و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة ‌وكره ‌تركه وراء الأربعين

(قوله ‌وكره ‌تركه) أي تحريما لقول المجتبى ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد

ہندیہ (5/357) میں ہے:

‌ويحلق ‌عانته وينظف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة فإن لم يفعل ففي كل خمسة عشر يوما ولا يعذر في تركه وراء الأربعين فالأسبوع هو الأفضل والخمسة عشر الأوسط والأربعون الأبعد ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (4/57) میں ہے:

سوال: جو شخص زیر ناف کے بال نہ مونڈے اس کی نماز صحیح ہے یا نہیں؟

جواب: نماز صحیح ہے لیکن یہ فعل بُرا ہے اور چالیس دن سے زیادہ موئے زیر ناف کو باقی رکھنا مکروہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved