- فتوی نمبر: 32-229
- تاریخ: 02 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ فاسدہ کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں شعبہ حفظ میں طلباء سے داخلہ فیس لی جاتی ہے جب ایک مرتبہ طالب علم داخلہ فیس جمع کروادے تو جب تک مدرسے میں رہے گا وہ فیس کار آمد رہتی ہے اس کے علاوہ ماہانہ فیس بھی وصول کی جاتی ہے ۔ مدرسہ کی انتظامیہ غیر حاضری میں تقلیل کے لیے اگر یہ اصول اپنائے کہ جو طالبعلم مسلسل ایک ہفتہ غیر حاضری کرے گا اس کا داخلہ منسوخ کردیا جائے گا اور مدرسہ کی صوابدید پر ہوگا کہ مدرسہ طالب علم کو داخلہ دے یا نہ دے ۔ اگر داخلہ دیا جائے گا تو داخلہ فیس دوبارہ وصول کی جائے گی ۔کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ نیز داخلہ فیس کے عوض ہم طلباء کو سیکیورٹی، صفائی کرنے والا عملہ اور انتظامیہ کا عملہ اور خدمات فراہم کرتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
داخلہ فیس کی جو صورت سوال میں مذکور ہے اسے نہ ابتداءً اختیار کرنا درست ہے اور نہ ہی دوبارہ داخلے کی صورت میں اختیار کرنا درست ہے کیونکہ سوال کے مطابق اس داخلہ فیس کو طلباء کی سیکیورٹی، صفائی کرنے والا عملہ وغیرہ کا عوض قرار دیا گیا ہے اور یہ عوض مجہول ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ کونسا طالب علم کتنا عرصہ مدرسہ میں رہے گا اور وہ کتنے عرصہ تک داخلہ فیس کے عوض مذکورہ سہولیات استعمال کرے گا اور اجارے میں معقود علیہ کی جہالت مفسد اجارہ ہے لہٰذا یہ اجارہ فاسدہ ہے جوکہ نہ ابتداءً جائز ہے اور نہ دوبارہ داخلے کی صورت میں جائز ہے۔
البتہ داخلہ فیس کے جواز کی چند صورتیں ذکر کی جاتی ہیں ادارے والے اپنی سہولت کے لحاظ سے ان میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کرسکتے ہیں۔
پہلی صورت
داخلہ فیس کو داخلہ سے متعلق کا غذی کاروائی کا عوض قرار دیا جائے۔
اس صورت میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہوگا:
- دوبارہ داخلے کی صورت میں اگر کاغذی کاروائی کی ضرورت نہ پڑے تو دوبارہ فیس لینا جائز نہ ہوگا۔
- اگر کوئی طالب علم داخل ہونے کے بعد نہ آئے تو داخلہ فیس واپس کرنا جائز نہ ہوگا کیونکہ داخلہ فیس واپس کرنا ایک تبرع ہوگا اور وقف ادارے کی ملکیت سے انتظامیہ کو تبرع کی اجازت نہیں۔
- داخلہ فیس کی مذکورہ پوری تفصیل طالب علم کے سرپرست کو ابتداءً بتانا ضروری ہوگا تاکہ کل کلاں کو نزاع کی نوبت نہ آئے۔
دوسری صورت
داخلہ فیس کو ایام تعلیم میں سے پہلے دن کی تعلیم کا عوض قرار دیا جائے۔
اس صورت میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا ہوگا:
- اگر طالب علم داخلہ لینے کے بعد نہ آئے تو اسے داخلہ فیس واپس کرنی ہوگی۔
- پوری تفصیل طالب علم کے سرپرست کو بتانا ضروری ہوگا تاکہ کل کلاں کو نزاع کی نوبت نہ آئے۔
نوٹ: اس صورت میں ماہانہ فیس سے تعلیم کے پہلے دن کو مستثنیٰ بھی کیاجاسکتا ہے اور ماہانہ فیس کے لحاظ سے ایک دن کی جو فیس بنتی ہے اسے اور داخلہ فیس کے مجموعہ کو بھی اس دن کی تعلیم کا عوض قرار دیا جاسکتا ہے۔
تیسری صورت
داخلہ فیس کو پہلے ماہ کی فیس قرار دیا جائے۔
اس صورت میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا ہوگا:
- اگر طالب علم دوران ماہ شرعاً قابل اعتبار عذر کی وجہ سے مدرسہ چھوڑ دے یا اسے مدرسے کی طرف سے خارج کردیا جائے تو اسے مہینے کے بقیہ ایام کی فیس واپس کرنی ہوگی۔
- مذکورہ پوری تفصیل طالب علم کے سرپرست کو بتانا ضروری ہوگا تاکہ کل کلاں کو نزاع کی نوبت نہ آئے۔
نوٹ: اس صورت میں ماہانہ فیس سے اس پہلے ماہ کو مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے اور ماہانہ فیس اور داخلہ فیس کے مجموعہ کو بھی اس ماہ کی تعلیم کا عوض قرار دیا جاسکتا ہے الغرض جو بھی صورت اختیار کرنی ہو طالب علم کے سرپرست کے سامنے اسے واضح کردیا جائے۔
چوتھی صورت
داخلہ فیس کو پورے سال کی فیس قرار دیا جائے۔
اس صورت میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا ہوگا:
- اگر طالب علم دوران سال شرعاً قابل اعتبار عذر کی وجہ سے مدرسہ چھوڑ دے یا اسے مدرسے کی طرف سے خارج کردیا جائے تو اسے سال کے بقیہ ایام کی فیس واپس کرنی ہوگی۔
- مذکورہ پوری تفصیل طالب علم کے سرپرست کو بتانا ضروری ہوگا تاکہ کل کلاں کو نزاع کی نوبت نہ آئے۔
نوٹ: داخلہ فیس کے جواز کی جو صورتیں ذکر کی گئی ہیں یہ سب آئندہ کے لیے ہیں لیکن اب تک جو داخلہ فیس کے نام سے فیس لی گئی ہے وہ کسی عقد صحیح کے تحت داخل نہ تھی اس لیے اس کی واپسی لازمی ہے۔
ہندیہ (2/463) میں ہے:
وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى امام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك إلا إن كان الواقف شرط ذلك فى الواقف.
امدادالاحکام (3/582) میں ہے:
سوال:۔ گذارش یہ ہے کہ ہمارے مدرسہ میں جو قوانین ہیں، ان میں سے کئی قانون کے متعلق احقر کو شبہ ہوگیا ہے، اس لئے حضرت والا سے دریافت کرنا چاہتا ہے کہ شرعاً یہ جائز ہے یا نہیں، مہربانی فرماکر جواب سے مشرف فرماویں۔
(۱) جب کوئی نئے لڑکے مدرسہ میں داخل ہوتے ہیں تو علاوہ ماہواری فیس کے ان سے داخلہ فیس ماہواری فیس کے مقدار میں لی جاتی ہے، اس کا لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
(۲) اگر کوئی لڑکا مدرسہ سے چلا جائے تو دو ماہ تک حاضری کاپی میں اس کا نام رکھا جاتا ہے، پھر اگر وہ یہاں داخل ہوتو اس سے ان دونوں مہینوں کے فیس لی جاتی ہے، حالانکہ اس زمانہ میں اس نے ایک سبق بھی نہیں پڑھا تھا، اور پھر داخلہ فیس بھی لی جاتی ہے، یہ جائز ہے یا نہیں؟
(۳) اگر کوئی لڑکا کسی مہینے میں کلاً یا بعضاً غیرحاضر رہے، تو دوسرے مہینے میں اس سے پوری فیس لی جاتی ہے، یہ جائز ہے یا نہیں؟
(۴) نئے لڑکے سے فیس داخلہ کے علاوہ اس مہینے کی پوری فیس لی جاتی ہے، خواہ مہینے کی شروع میں داخل ہو یا درمیان میں یا اوائل عشرہ آخر میں، یہ جائز ہے یا ایام کے اعتبار سے کمی بیشی کرکے لینا چاہئے؟
الجواب: (۱) اس تاویل سے جائز ہے کہ یوم داخلہ کی اجرت تعلیم سب ایام سے زیادہ ہے۔ اور اس کی تعجیل مشروط ہے اور تعجیل اجر جائز ہے۔
(۲) یہ بھی اس تاویل سے جائز ہے کہ جو لڑکا ایسا ہوگا اس سے یوم داخلہ کی اجرت تعلیم دوسروں سے زائد لی جائے گی اور وہ زیادت پیشگی لی جائے گی، اور اس زیادت کے تعین کا معیار یہ قرار دیا گیا کہ جتنی فیس ایام غیرحاضر کی ہو وہ مع فیس داخلہ کی مقدار کے مجموعۃً دوسرے لڑکوں کی فیس سے زائد ایسے لڑکے سے لی جائے گی، اور یہ مقدار گو بصورت قانون مجہول ہے، مگر وقت وصول وادا کے مجہول نہ ہوگی۔
(۳) اس صورت میں جواز کی گنجائش اصلاً نہیں۔
تنبیہ: اس صورت کے متعلق جو یہ لکھا گیا ہے کہ اس میں جواز کی گنجائش اصلاً نہیں، یہ اس صورت میں ہے جبکہ طالب علم پورے مہینے میں غیر حاضر رہا ہو، اور اگر بعض حصہ میں غیر حاضر اور بعض میں حاضر رہا ہو، تو اس میں اس طرح گنجائش ہے کہ قانون میں تصریح کردی جائے کہ جس مہینے کے کسی حصہ میں طالب علم مدرسہ سے نفع حاصل کرلے گا، اس سے پورے ماہ کی فیس لی جائیگی، گویا اجرت تعلیم کل ماہ اور بعض ماہ کی مساوی ہے۔
(۴) اس کا بھی حاصل وہی ہے ، جو صورت ثالثہ کا حاصل ہے، کہ جس طرح یوم داخلہ کی فیس واجرت دیگر ایام سے زائد ہے اسی طرح ماہ داخلہ کی اجرت دوسرے مہینوں سے زائد ہے، اس لئے یہ بھی جائز ہے، لازم یہ ہے کہ جس تاویل سے ان قواعد کو جائز کہا گیا ہے قواعد میں ان وجوہ کی تصریح ہوجائے تاکہ شبہ فساد باقی نہ رہے۔ واللہ اعلم
(نوٹ) یہ تو آئندہ کے لئے ہے، لیکن جو زمانۂ ماضیہ میں لی جاچکی ہے، چونکہ وہ اس تاویل سے نہیں لی گئی اس لئے اس کی واپسی لازم ہے۔
کفایت المفتی (2/45) میں ہے:
(سوال ) ایک اسلامی مدرسہ کی حالت نہایت خراب ہے ۔ یہاں کے مسلمان اس قدر بے حس ہیں کہ باوجود خدمات کے اعتراف کے مالی امداد کی طرف راٰغب نہیں ہوتے ۔ اس مدرسہ میں نہ گورنمنٹ سے کوئی امداد لی جاتی ہے ۔ نہ کسی بورڈ وغیرہ سے ۔ اندریں صورت (۱) اگر بچوں کے داخلہ کے وقت کوئی رقم داخلہ فیس کے طور پر لی جائے تو جائز ہے یا نہیں ؟ (۲) درجہ قرآ ن حفظ یا ناظرہ ، اردو فارسی یا عربی ان میں سے کسی درجہ کے لڑکوں پر ماہواری فیس شرعاً مقرر کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب:(۱) داخلہ فیس تو کوئی معقول نہیں ۔ معقول اس اعتبار سے نہیں کہ یہ طے نہیں ہوسکا کہ داخلہ فیس کسی چیز کی اجرت ہے خصوصا جب داخلہ فیس کے ساتھ ماہوار فیس بھی لی جائے، غایۃ ما فی الباب یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ داخلہ سے متعلق امور نمٹانے کی اجرت ہے۔
(۲)ماہوار فیس لی جاسکتی ہے۔
فتاویٰ محمودیہ (15/55) میں ایک سوال کے جواب کے تحت ہے:
مسجد کے لیے جو چندہ کیا جائے اس کو مدرسہ میں صرف کرنا جائز نہیں اور مدرسہ کے لیے جو چندہ کیا جائے اس کو مسجد میں صرف کرنا جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved