- فتوی نمبر: 36-356
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > امانت و ودیعت
استفتاء
جس بندے کے پاس کمیٹی کے پیسے پڑے ہوں تو کیا یہ بندہ ایسا کرسکتا ہے کہ اس رقم کو اپنی ضرورت میں خرچ کردے اور ادائیگی کے وقت اپنے پاس سے اتنی رقم ادا کردے؟
وضاحت مطلوب ہے: کمیٹی کے پیسے پڑے ہونے سے کیا مراد ہے؟ لوگوں کے پیسے اس کے پاس پڑے ہیں یا کچھ اور مراد ہے؟
جواب وضاحت: مراد یہ ہے کہ لوگوں کی کمیٹی کے پیسے ا سکے پاس پڑے ہوتے ہیں جو کہ کمیٹی نکلنے پر نکلنے والے کو دئیے جاتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جائز نہیں کیونکہ وہ پیسے اس کے پاس امانت ہوتے ہیں۔البتہ اگر کمیٹی جمع کروانے والوں کی طرف سے استعمال کرنے کی اجازت ہو اور یہ اندازہ بھی ہو کہ یہ اجازت طیب نفس (دلی خوشی) سے ہے تو پھر جائز ہے۔
مسند ابی یعلیٰ (3/70) میں ہے:
حدثنا عبد الأعلى، حدثنا حماد، عن علي بن زيد، عن أبى حرة الرقاشى، عن عمه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه”
مرقاۃ المفاتیح (1/128) میں ہے:
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: ” «آية المنافق ثلاث» “. زاد مسلم: ” «وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم» “، ثم اتفقا: ( «إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان» “
(إذا اؤتمن) بالبناء للمفعول أي وضع عنده أمانة (خان) أي بالتصرف غير الشرعي
شامی (9/334) میں ہے:
لايجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته
الاصل للشیبانی (8/443) میں ہے:
قلت: أرأيت الرجل تكون عنده الوديعة فيعمل بها فيربح ولم يأذن له صاحبها؟ قال: هو ضامن للوديعة، والربح له يتصدق به، ولا ينبغي له أن يأكله. بلغنا ذلك عن إبراهيم النخعي. قلت: أرأيت إن عمل بها بنفسه بإذن صاحبها؟ قال: هي قرض عليه، والربح له حلال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved