- فتوی نمبر: 36-334
- تاریخ: 13 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
دربار ومزار کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: شرعی حیثیت سےآپ کی کیا مراد ہے؟
جواب وضاحت:1. میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ قبروں پر مزار بنانا صحیح ہے یا غلط؟
2.اسلام کیا کہتا ہے اس بارے میں دربار ومزار کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی مجھے ایک پوری تحریر چاہیے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1.قبروں پر عمارت بنانا یا انہیں پختہ کرنا جائز نہیں ہے۔
2.قبروں پر دربار اور مزار عموماً حکومتوں نے تعمیر کروائے ہیں اور علماء کے منع کرنے کے باوجود کروائے ہیں۔
صحیح مسلم (1/636) میں ہے:
عن جابر رضي الله عنه نهى رسول الله صلی الله عليه وسلم أن یجصص القبر وأن يقعد عليه وأن یبنی عليه
ترجمہ:حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے قبروں کو پختہ کرنے سےاوران پر بیٹھنے سے اور ان پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔
مرقاۃ المفاتیح (3/1217) میں ہے:
(وعن جابر قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر وأن يبنى عليه») قال في الأزهار: النهي عن تجصيص القبور للكراهة، وهو يتناول البناء بذلك وتجصيص وجهه، والنهي في البناء للكراهة إن كان في ملكه، وللحرمة في المقبرة المسبلة، ويجب الهدم وإن كان مسجدا
الدر المختار مع ردالمحتار (2/237) میں ہے:
ولا يرفع عليه بناء
(قوله ولا يرفع عليه بناء) أي يحرم لو للزينة، ويكره لو للإحكام بعد الدفن، وأما قبله فليس بقبر إمداد. وفي الأحكام عن جامع الفتاوى: وقيل لا يكره البناء إذا كان الميت من المشايخ والعلماء والسادات …… وأما البناء عليه فلم أر من اختار جوازه …….. وعن أبي حنيفة: يكره أن يبني عليه بناء من بيت أو قبة أو نحو ذلك، لما روى جابر «نهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عن تجصيص القبور، وأن يكتب عليها، وأن يبنى عليها» رواه مسلم وغيره
تنویر الابصار(3/169) میں ہے:
ويسنم ولايجصص ولايطين ولا يرفع عليه بناء
اغاثۃ اللہفان فی مصاید الشیطان ، لابن قیم ؒ (1/195) میں ہے:
ورأيت لأبى الوفاء بن عقيل فى ذلك فصلاً حسناً، فذكرته بلفظه، قال: “لما صعبت التكاليف على الجهال والطغام، عدلوا عن أوضاع الشرع إلى تعظيم أوضاع وضعوها لأنفسهم، فسهلت عليهم، إذ لم يدخلوا بها تحت أمر غيرهم. قال: وهم عندى كفار بهذه الأوضاع، مثل تعظيم القبور وإكرامها، بما نهى عنه الشرع: من إيقاد النيران وتقبيلها وتخليقها، وخطاب الموتى بالحوائج، وكتب الرقاع فيها: يا مولاى افعل بى كذا وكذا ……… فنهى رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم عن الصلاة إلى القبور، وهؤلاء يصلون عندها.
ونهى عن اتخاذها مساجد، وهؤلاء يبنون عليها المساجد، ويسمونها مشاهد، مضاهاة لبيوت الله تعالى
فتاویٰ محمودیہ(9/164) میں ہے:
اولیاء اللہ کے مزارات پر گنبد کیوں ہیں؟
سوال:جب کہ پختہ قبریں وگنبد بنوانا حرام ہے تو زمانۂ سابقہ میں اور اسلامی حکومتوں میں پھر کیوں بڑے اولیاء اللہ کے مزار وگنبد بنوائے گئے تھے، جیسے روضۂ بغداد، روضۂ اجمیری، روضۂ کلیری، روضۂ نظام الدین وغیرہ وغیرہ، حالانکہ زمانۂ سابقہ میں بڑے بڑے جید علماء موجود تھے اور خلیفہ؟
جواب: جید علماء نے منع کیا مگر حکومت نے نہیں مانا، حکومت کا یہ فعل سند نہیں۔
كفايت المفتی (2/283) میں ہے:
سوال: حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی ؒ جو اکابر اولیاء کرام میں سے دہلی میں گزرے ہیں۔ان کا مزار آج تک خام چلا آ رہا ہے ایک شخص کہتا ہے کہ مجھ کو بشارت ہوئی ہے کہ میرا مزار ننگا پڑا ہے اس پر گنبد پختہ بناؤ۔چنانچہ ایک شخص مستعد ہو گیا ہے کہ ان کے مزار پر گنبد بنا دے لہذا علماء کرام سے سوال ہے کہ کیا شرعاً اس بشارت پر عمل کرنا ونیز کسی قبر پر عمارت و گنبد وغیرہ پختہ بنانا درست ہے یا نہیں؟
جواب: قبر پر گنبد بنانا یا قبر کو پختہ بنانا ناجائز ہے صریح طور پر حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے ایسی بشارت (یعنی خواب) جو کسی نا مشروع فعل کے ارتکاب کی ترغیب دے قابل التفاء وقابل عمل نہیں ہے اس کا جب خیال آئے تو لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا چاہیے یہاں تک کہ یہ خیال جاتا رہے۔
ملفوظات حکیم الامت(21/333) میں ہے:
’’یہ پختہ مزارات تمام تر روؤساء اور امراء و سلاطین کے بنوائے ہوئے ہیں، ورنہ اہل اللہ کو اپنے بدن تک کی پرواہ نہیں ہوتی۔ پھر یہ جو چلے قبروں کے پختہ و آراستہ بنانے کے ان میں کہاں سے آ جاتے ان کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو کہ وہ بھی ان خرافات سے خوش ہوتے ہیں۔ غرضیکہ یہ پختہ مزارات اہل اللہ کے مزاج کے بالکل خلاف ہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved