- فتوی نمبر: 32-107
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سنت اور نفل نمازوں کا بیان
استفتاء
کیا دو رکعات کا ثواب آٹھ رکعات کے برابر ہو سکتا ہے ؟ کیونکہ ایک آدمی کہہ رہا تھاکہ اگردورکعات نفل پڑھتے ہوئے نیت یوں باندھ لی جائے(تحیۃالوضوء ،تحیۃ المسجد،شکرانہ ،اورحاجت)تو سب ادا ہوجائیں گے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دو رکعات کا ثواب آٹھ رکعات کے برابر تو نہ ہوگا البتہ دو رکعات میں مذکورہ نیتیں کرنے کی وجہ سے یہ دو رکعات ان نمازوں کے قائم مقام ہوجائیں گی جن کی نیت کی گئی ہے اور ان سب نمازوں کا ثواب بھی مِل جائے گا لیکن اگر وہ مذکورہ نیتوں سے الگ الگ دو دو رکعات پڑھتا تو ان کا ثواب زیادہ ہوتا۔
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح (ص:216) میں ہے:
إن جمع بين عبادات الوسائل في النية صح كما لو اغتسل لجنابة وعيد وجمعة إجتمعت ونال ثواب الكل وكما لو توضأ لنوم وبعد غيبة وأكل لحم جزور وكذا يصح لو نوى نافلتين أو أكثر كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى وكسوف
شرح الحموی علی الاشباء والنظائر(1/110) میں ہے:
أما اذا نوى نافلتين كما اذا نوى بركعتى الفجر، التحية والسنة أجزأت عنهما.
الد رالمختار(2/78) میں ہے:
ولو نافلتين كسنة فجر وتحية مسجد فعنهما.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved