- فتوی نمبر: 37-33
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میں نے اپنی بیگم کو پہلے دو مرتبہ کہا: “میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔” پھر بیگم نے پوچھا کہ تم نے کیا کہا ؟ تو میں نے صرف اسے بتانے کے لیے کہا: “میں نے کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔” کیا اس تیسری مرتبہ سے بھی طلاق واقع ہوئی ہے یا صرف دو طلاقیں ہوئی ہیں ؟
نوٹ : بیوی نے اپنے صوتی پیغام میں شوہر کے الفاظ کی تصدیق کی ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دو رجعی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر رجوع ہوسکتا ہے اور اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو عدت پوری ہوتے ہی نکاح ٹوٹ جائے گا ۔ جس کے بعد اکٹھے رہنے کے لیے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا جس میں نیامہر ہو اور گواہ بھی موجود ہوں۔
نوٹ: رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں شوہر کے دو مرتبہ “میں تجھے طلاق دیتا ہوں” کہنے سے دو رجعی طلاقیں واقع ہوگئیں ۔ اس کے بعد بیوی کے سوال کرنے پر شوہر کا یہ کہنا کہ ” میں نے کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں” اسی طلاق کی حکایت ہے انشاء نہیں ور طلاق کی حکایت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اس لیے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لہٰذا مذکورہ صورت میں دو رجعی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ۔
الاصل لمحمد بن الحسن( 4/472) میں ہے:
لو قال قد طلقتك………. ثم قال له رجل او امراة ما قلت فقال طلقتها …………. فهي واحدة في القضاء وفيما بينه وبين الله تعا لي لان هذا جواب كلامهم
بدا ئع الصنا ئع( 3/163) میں ہے:
ولو قال لامراته انت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها او قال هي طالق فهي واحدة في القضاء ،لان كلامه انصرف الي الاخبار بقرينة الاستخبار
مختصر الطحاوی (5/20) میں ہے:
واذا طلقها بان قال لها …….. قد طلقتك فانه يملك رجعتها فان شاء راجعها قبل انقضاء العدة وان شاء تركها حتى تنقضى عدتها
فتاوی شامی (3/ 293)میں ہے :
«وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم»
امدادالفتاوی( 5/289) میں ہے:
سوال: گزارش خدمت آنکہ اگر کسی شخص نے کسی وجہ سے اپنی جورو پر خفا ہوکر یہ کہا کہ اب اسکو اور نہیں رکھوں گا یہ کہہ کر گھر سے روانہ ہوکر دوسرے کسی کے مکان میں چلا آیا تو ایک شخص نے اس سے کہا کہ تونے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا جواب میں اس نے کہا کہ ہاں چھوڑ دیا یہ بہت زبان دراز ہے گا لی گلوچ بکتی ہے دوسرے شخص نے پھر اس سے کہا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیاپھر کہا کہ ہاں چھوڑ دیا یہ کسی دن ہوٹل میں رہی تھی تیسرے شخص نے بھی ایسا ہی اس سے پوچھا اس کے جواب میں بھی یہی کہا کہ ہاں چھوڑ دیا تو کیا صورت مسؤل عنہا میں اس شخص کی جورو پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اور اگر طلاق واقع ہوتو ایک طلاق ہوگی یا تین طلاقیں پڑ جائیں گی اور اگر ایک واقع ہوتو وہ رجعی ہوگی یا بائن ؟یہاں کے عرف میں چھوڑدینے کو ایسے محل میں طلاق دینے ہی کے معنی پر استعمال کرتے ہیں دوسرے معنی مراد نہیں ہوتے ۔ والسلام
جواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اس لئے کہ زوج کا استفہام بایقاع الطلاق کے جواب میں یہ کہنا کہ ہاں چھوڑ دیا بمقتضائے مطابقہ جواب للسوال انشاء طلاق نہیں ہے اخبار عن انشاء الطلاق ہے جس سےبصورت کذب خبر صرف قضاء و بصورت صدق دیانۃ بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
فى البحر عن الفتح : ولو اقر با لطلاق وهو كاذب وقع فى القضاء
وفى رد المختار عن البحر عن البزازية والقنية :لو اراد به (اي باقرار الطلاق ) الخبر عن الماضى كذبا لا يقع ديانة وان اشهد قبل ذلك لا يقع قضاء
اور تکرار اخبار گو محتمل تعدد مخبر عنہ ہے لیکن ظاہر یہی ہے کہ تینوں خبریں ایک ہی انشاء کی اور تینوں حکایتیں ایک ہی محکی عنہ کی ہیں اس لئے با وجو د تکرار اخبار طلاق ایک ہی واقع ہوگی۔
ونظيره ما رواه الشامي في رد المختار عن كافي الحا كم واذا قال انت طالق، ثم قيل له ماقلت فقال قد طلقتها او قلت هي طالق فهي طالق واحدة ، لانه جواب.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved