- فتوی نمبر: 35-215
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
اگر ایک شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق دے اور پھر تھوڑی دیر بعد اس کی بیوی اسے کال کرے اور وہ شخص بولےتم مجھے کیوں کال کر رہی ہو؟ کیا چاہیے تمہیں؟ تمہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تمہارا میاں نہیں رہا۔ “You are free from me”( تم میری طرف سے آزاد ہو)
اور یہ الفاظ پرانی طلاق کی خبر کرنے کے لیے ہوں تو کیا ان سے دوسری طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
وضاحت مطلوب ہے” طلاق کے الفاظ کیا تھے؟
جواب وضاحت: بیوی نے کہا کہ “مجھے طلاق دو” شوہر نے کہا کہ ” دے دی”
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوگی ۔
توجیہ: شوہر کا بیوی کے طلاق کے مطالبے پر یہ کہنا کہ ” دے دی ” اس سے ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی ، پھر اس کے بعد کال پر شوہر کا بیوی کو یہ الفاظ کہنا کہ “You are free from me” (تم میری طرف سے آزاد ہو) ان الفاظ سے پہلے والی رجعی طلاق بائنہ بن گئی کیونکہ صریح طلاق کے بعد کنائی الفاظ استعمال کرنے سے صرف وصف میں اضافہ ہوتا ہے عدد میں اضافہ نہیں ہوتا۔
خلاصۃ الفتاویٰ (2/ 86) میں ہے:
لو قال لإمراته أنت طالق ثم قال للناس زن برمن حرام است أو عنى به الاول أو لانية له فقد جعل الرجعى بائنا وإن عنى به الابتداء فهى طالق آخر بائن
امداد المفتین (ص521) میں ہے:
’’سوال: زید نے اپنی بیوی کو مندرجہ ذیل تحریر بذریعہ رجسٹری ڈاک بھیج دی ’’میں نے اور میرے والدین نے تمہیں گھر آباد کرنے کی جدوجہد کی، لیکن سب کوششیں بے سود ثابت ہوئیں،اس واسطے تنگ آکر تم کو بحکم شریعت طلاق دے دی ہے، اور میرا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے، تم اس خط کو سن کر اپنے آپ کو مجھ سے علیحدہ سمجھنا، میں یہ طلاقنامہ تم کو تمہارے والد کی وساطت سے بھیجتا ہوں‘‘ اس سے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟
الجواب:صورت مذکور میں شوہر کے پہلے الفاظ طلاق صریح کے ہیں، اور دوسرے کنایہ کے، صورت مذکورہ میں کنایہ کے دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں، اول ’’میرا تم سے کچھ تعلق نہیں‘‘ دوسرے ’’تم اس خط کو سن کر اپنے کو مجھ سے علیحدہ سمجھنا‘‘ یہ دونوں لفظ کنایات بوائن میں سے ہیں……………الفاظ کنایہ میں اس جگہ باعتبارمراد و نیت متکلم کے عقلا تین احتمال ہیں، تینوں احتمالوں پر حکم شرعی جداگانہ ہے، اول یہ کہ الفاظ کنایہ سے اس نے پہلی طلاق ہی مراد لی ہو، یعنی اس طلاقِ اول کی توضیح و تفسیر اور بیان حکم اس سے مقصود ہو، دوسرے یہ کہ ان الفاظ سے مستقل طلاق کی نیت ہو، تیسرے یہ کہ ان الفاظ سے کچھ کسی چیز کی نیت نہ ہو پہلی صورت میں ان الفاظ سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی۔
فقہ الاسلامی (ص:129) میں ہے:
تنبیہ: کیونکہ ہمارے عرف میں شوہر کی مذکورہ بالا عبارت کا صاف مطلب یہی سمجھا جاتا ہے کہ شوہر اپنے ان الفاظ سے کہ……….. میرا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا یا تم آزاد ہو یا تم جہاں چاہے نکاح کر لو ……..اسی پہلی طلاق کو بیان کر رہا ہے کہ وہ ایسی ہے۔بلکہ بہت سے لوگوں کو الفاظ کنایہ سے طلاق ہونے کا علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے پہلی صورت متعین ہے کہ ایک طلاق بائن واقع ہوگی الا یہ کہ شوہر نے دوسری طلاق کی نیت کی ہو کہ اس وقت دو طلاق بائن واقع ہوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
