• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

فیکٹری سے خریدتے وقت سپلائر کا غلط بیانی سے کام لینا

استفتاء

ہم سیمنٹ کے سپلائر ہیں، ہم سیمنٹ کی مختلف فیکٹریوں سے جو کی ***کی طرف واقع ہیں، ان سے سیمنٹ منگوا کر آگے خواہشمند لوگوں کو سپلائی کرتے ہیں، سیمنٹ فیکٹریوں نے آپس کے معاہدے سے سیمنٹ کی بوری کے ریٹ طے کر رکھے ہیں، کہ اس سے کم یا زیادہ فروخت نہ کیا جائے، لیکن چونکہ ملک کے تمام شہروں میں سیمنٹ کی ڈیمانڈ یکساں نہیں ہوتی بلکہ پسماندہ علاقوں میں خاصی کم ہوتی ہے اس لیے یہ ریٹ مختلف شہروں کے اعتبار سے مختلف ہیں، مثلاً لاہور کے لیے فیکٹری سے  پہنچ 500 روپے بوری ہے تو ملتان کے لیے 450 روپے بوری ہو گی، چنانچہ اگر ہم یہاں لاہور میں کسی جگہ سیمنٹ کی سپلائی دینا چاہیں تو ہمیں 500 روپے کی بوری ملے گی۔

اب ہماری صورت حال سنیئے۔ ہمیں اگرچہ سیمنٹ لاہور ہی میں کسی جگہ درکار ہوتا ہے، مثلاً میٹرو پل کے لیے منگوانا ہے، لیکن ہم بجائے لاہور کا آرڈر دینے کے فیکٹری کو ملتان کی کسی اور پروجیکٹ کا ریفرنس دے کر وہاں کے لیے سپلائی لیتے ہیں، چنانچہ فیکٹری کے کاغذات میں وہ سپلائی ملتان جا رہی ہے جبکہ ہم اسے راستے سے ادھر لاہور ہی منگوا کر اتار لیتے ہیں، اس طرح ہمیں اضافی بچت ہو جاتی  ہے ۔ فیکٹری کے مینجر اور ذمہ داروں کو بھی اس ساری صورت حال کا عموماً علم ہوتا ہے کہ ہمارے ڈیلر ایسی حرکتیں کرتے

ہیں اور انہیں متعین طور سے بھی علم ہو جائے کہ یہ سپلائی غلط جگہ جا رہی ہے تو بھی وہ اعتراض نہیں کرتے۔

وہ ایسا بھی نہیں کر سکتے کہ ہمیں لاہور ہی میں سپلائی 450 روپے کی دیں، کیونکہ ایسا کرنا فیکٹریوں کے باہمی معاہدے کے خلاف ہو گا جس پر وہ دوسرے کو دارو گیر کر سکتے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ آپ نے ایک تو خود پابندی قبول کی ہے لہذا آپ کے ذمہ ضروری ہے کہ آپ اس کو پورا کریں۔ دوسرا یہ کہ اس طرح خریدنے میں غلط بیانی اور دھوکہ سے کام لینا پڑتا ہے جو شرعاً ممنوع ہے۔ لہذا آپ کا مذکورہ طریقے سے خریدنا درست نہیں۔

أن رسول الله ﷺ قال الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحاً حرم حلالاً أو أحل حراماً و المسلمون علی شروطهم إلا شرطا حرم حلالاً أو أحل حراماً. (الترمذي: 1/ 251) فقط و الله أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved