• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نبیذ کیا ہے اور نبیذ پینے کاکیا حکم ہے؟

استفتاء

نبیذ کیا ہے اور اس کے پینے کا  کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اہل علم کے نزدیک  نبیذ سے دو معنیٰ مراد لیے جاتے ہیں:

1۔ پانی  میں چند کھجوریں ڈال کر پانی میٹھا ہونے کے لیے چھوڑ دی جائیں،ان کو پکایا نہ جائے اور نہ ہی اتنی دیر چھوڑا جائے کہ ان میں جھاگ پیدا ہو اور نشہ پیدا ہوجائے۔نبیذ کی یہ قسم میٹھے شربت کا حکم رکھتی ہے اسے پینا جائز ہے البتہ پانی نہ ہوتے ہوئے اس سے وضو کرنے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔

2۔چھوہارے یا کشمش کو پانی میں ڈال  کر  کچھ پکا لیا جائے اور پھر اسے چھوڑ دیا جائے  یہاں تک کہ اس میں پڑے پڑے نشہ پیدا ہوجائے ۔

نبیذ  کی یہ قسم چونکہ نشہ آور ہے اس لیے اتنی مقدار پینا کسی صورت جائز نہیں ہے جس سے نشہ آتا ہو البتہ کسی ضرورت مثلاً علاج کی غرض سے اتنی مقدار پینے کی گنجائش ہے کہ جس  کے پینے سے نشہ نہیں آتا لیکن  بلا ضرورت محض  مزے کے لیے اتنی مقدار بھی پینا جائز نہیں ہے۔

شامی(1/ 432) میں ہے:

(قوله ويقدم التيمم على ‌نبيذ التمر) اعلم أنه روي في النبيذ عن الإمام ثلاث روايات: الأولى: وهي قوله الأول أنه يتوضأ به ويستحب أن يضيف إليه التيمم. الثانية: الجمع بينهما كسؤر الحمار، وبه قال محمد ورجحه في غاية البيان. والثالثة: التيمم فقط، وهو قوله الأخير، وقد رجع إليه، وبه قال أبو يوسف والأئمة الثلاثة واختاره الطحاوي، وهو المذهب المصحح المختار المعتمد عندنا بحر.

إذا علمت ذلك ظهر لك أن ظاهر كلام المصنف مبني على الرواية الثانية، وبه تظهر مناسبة ذكره في بحث السؤر، لكن ينافيه قوله على المذهب: فيتعين حمل قوله ويقدم إلخ على التقدم في الرتبة لا في الزمان: أي أن التيمم رتبته التقدم على الوضوء بالنبيذ، فلا يقتصر على الوضوء به، ولا يجمع بينهما مع سبق التيمم. قال في النهرومحل الخلاف ما إذا ألقى في الماء تميرات حتى صار حلوا رقيقا غير مطبوخ ولا مسكر، فإن لم يحل فلا خلاف في جواز الوضوء به، أو أسكر فلا خلاف في عدم الجواز، أو طبخ فكذلك في الصحيح كما في المبسوط ورجح غيره الجواز، إلا أن الأول أولى لموافقته لما مر من الضابط أي المذكور في المياه»

الدر المختار مع ردالمحتار(10/39) میں ہے:

 (والحلال منها) أربعة أنواع:الأول (نبيذ التمر والزبيب إن طبخ أدنى طبخة) يحل شربه (وإن اشتد) وهذا (إذا شرب) منه (بلا لهو وطرب) فلو شرب للهو فقليله وكثيره حرام (وما لم يسكر) فلو شرب ما يغلب على ظنه أنه مسكر فيحرم، لأن السكر حرام في كل شراب

«(قوله نبيذ التمر والزبيب) أي ونبيذ الزبيب قال القهستاني: والتمر اسم جنس كما مر، فيتناول اليابس والرطب والبسر، ويتحد حكم الكل كما في الزاهدي والنبيذ يتخذ من التمر والزبيب أو العسل أو البر أو غيره، بأن يلقى في الماء ويترك حتى يستخرج منه مشتق من النبذ: وهو الإلقاء كما أشير إليه في الطلبة وغيره اهـ ثم قال: فالفرق بينه وبين النبيذ بالطبخ وعدمه كما في النظم. أقول: والظاهر أن قوله وبين النبيذ سبق قلم، والصواب وبين النقيع لأن الضمير في بينه للنبيذ تأمل (قوله إن طبخ أدنى طبخة) وهو أن يطبخ إلى أن ينضج شرنبلالية عن الزيلعي. وقيد به لأن غير المطبوخ من الأنبذة حرام بإجماع الصحابة إذا غلى واشتد وقذف بالزبد، وقد ورد في حرمة المتخذ من التمر أحاديث وفي حله أحاديث، فإذا حمل المحرم على النيء والمحلل على المطبوخ فقد حصل التوفيق واندفع التعارض عيني، والأحاديث الواردة كلها صحاح ساقها الزيلعي، ووفق بما ذكر فراجعه. قال الأتقاني: وقد أطنب الكرخي في رواية الآثار عن الصحابة والتابعين بالأسانيد الصحاح في تحليل النبيذ الشديد. والحاصل أن الأكابر من أصحاب رسول الله – صلى الله عليه وسلم – وأهل بدر كعمر وعلي وعبد الله بن مسعود وأبي مسعود – رضي الله عنهم – كانوا يحلونه، وكذا الشعبي وإبراهيم النخعي. وروي أن الإمام قال لبعض تلامذته إن من إحدى شرائط السنة والجماعة أن لا يحرم نبيذ الجر اهـ. وفي المعراج قال أبو حنيفة: لو أعطيت الدنيا بحذافيرها لا أفتي بحرمتها لأن فيه تفسيق بعض الصحابة، ولو أعطيت الدنيا لشربها لا أشربها لأنه لا ضرورة فيه وهذا غاية تقواه اهـ

ہندیہ (5/ 412) میں ہے:

«(وأما ما هو حلال عند عامة العلماء) فهو الطلاء، وهو المثلث ‌ونبيذ ‌التمر والزبيب فهو حلال شربه ما دون السكر لاستمراء الطعام والتداوي وللتقوى على طاعة الله – تعالى – لا للتلهي والمسكر منه حرام، وهو القدر الذي يسكر»

عمدۃ الفقہ(1/230) میں ہے:

مطلق پانی میں کچھ کھجوریں یا چھوہارے بھگودیے جائیں اور وہ پانی میٹھا ہوجائے اس میں پتلا پن اور اعضاء پر بہنے کی صفت باقی رہے ،اس کےپینے سے نشہ پیدا نہ ہو اور اس کو آگ پر پکایا نہ گیا ہو اور اس کے استعمال کے وقت امام ابوحنیفہؒ کا قول یہ ہے جن اوقات میں تیمم جائز ہے ان اوقات میں نبیذ تمر سے وضو کرنا جائز ہے………اور اگر وہ پانی نشہ آور ہوگیا ہو یعنی اس میں جوش آجائے یا وہ سخت ہوجائے یا اس پر جھاگ آجائے تو بلا خلاف اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہےاس لیے کہ اس کا استعمال حرام ہے کیونکہ وہ نشہ آور ہے اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ وہ پانی کچا ہو یعنی آگ پر پکایا نہ گیا ہو اور اس کو آگ پر تھوڑا سا پکایا گیا ہو تو صحیح ہے کہ ہمارے تینوں اماموں کے نزدیک بلا خلاف اس سے وضو جائز نہیں ہے کیونکہ اس کو آگ نے متغیر کر دیا ہے خواہ وہ میٹھا ہو خواہ تلخ اور خواہ وہ نشہ لانے والا یعنی جوش وجھاگ والا ہو،یا نہ ہو………

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved