- فتوی نمبر: 35-93
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سنت اور نفل نمازوں کا بیان
استفتاء
فرض رکعت کے علاوہ باقی ہر قسم کی رکعتیں نفل سمجھ کر مستقل ترک کرنا کیسا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
فرض رکعت کے علاوہ سب رکعات اس معنی میں نفل نہیں ہوتی کہ پڑھیں یا نہ پڑھیں سب برابر ہے بلکہ کچھ رکعات واجب ،سنت مؤکدہ، سنت غیر مؤکدہ ہوتی ہے اور کچھ نفل بھی ہوتی ہے ان میں سے واجب کو چھوڑنے والا اور سنت مؤکدہ کو بلا عذر چھوڑنے والا گناہ گار ہوتا ہے۔ نیز واجب کی قضا بھی لازم ہوتی ہے البتہ سنت غیر مؤکدہ، نفل کو مستقل ترک کرنے سے گناہ نہیں ہوتا ۔ سنت مؤکدہ کی قضا تو لازم نہیں ہوتی لیکن بلا عذر اس کو چھوڑنے کی عادت بنانے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہے گا۔
المعجم الاوسط للطبرانی (رقم الحدیث:3561) میں ہے:
حدثنا خلف بن عبيد الله الضبي قال: نا خالد بن يوسف السمتي قال: نا أبي، عن أبي سفيان السعدي قال: سمعت الحسن، عن أبي هريرة قال: «أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشر ركعات لا أدعهن: ركعتان قبل الغداة، وركعتان قبل الظهر، وركعتان بعد الظهر، وركعتان بعد المغرب، وركعتان بعد العشاء»
صحیح ابن خزیمہ( رقم الحدیث 197 ) ميں ہے:
عن عبدالله بن عمرو ابن العاص قال: قال رسول الله صلی الله عليه وسلم : من رغب عن سنتی فلیس منی
بذل المجہود (5/450) میں ہے:
وسنة الزوائد: وتركها لا يوجب ذلك، كسير النبي صلى الله عليه وسلم في لباسه وقيامه وقعوده، والنفل ومنه المندوب يثاب فاعله ولا يسيء تاركه
شامی (1/104) میں ہے:
ترك السنة المؤكدة قريب من الحرام يستحق حرمان الشفاعة، لقوله عليه الصلاة والسلام من ترك سنني لم ينل شفاعتي» . اهـ. وفي التحرير: إن تاركها يستوجب التضليل واللوم،. اهـ. والمراد الترك بلا عذر على سبيل الإصرار كما في شرح التحرير لابن أمير حاج ……… من أنه لو اكتفى بالغسل مرة إن اعتاده أثم، وإلا لا
وفي البحر من باب صفة الصلاة: الذي يظهر من كلام أهل المذهب أن الاثم منوط بترك الواجب أو السنة المؤكدة على الصحيح؛ لتصريحهم بأن من ترك سنن الصلوات الخمس قيل: لا يأثم والصحيح أنه يأثم.
شامی (1/103) میں ہے:
والنفل ومنه المندوب يثاب فاعله ولا يسيء تاركه، قيل: وهو دون سنن الزوائد
امداد الاحکام (1/606) میں ہے:
سوال: اکثر لوگ جمعہ کی فرض نماز کے بعد بغیر سنت پڑھے چلے جاتے ہیں نہ اپنے مکانوں میں جاکر پڑھتے ہیں، بازار میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں، کتنا بھی تاکید کرو نہیں سنتے نہ پند ونصیحت قبول کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے کیا وعید آتی ہے؟ شرعاً بالتفصیل بیان فرمائیں۔
جواب: یہ لوگ تارک سنت مؤکدہ ہیں اور ترک سنت مؤکدہ گاہے بلا عذر ہوجائے تو صغیرہ ہے اور اس پر مداومت کرنا کبیرہ ہے جس سے علاوہ گناہ کے حرمان شفاعت نبوی کا اندیشہ ہے۔
رجل ترك سنن الصلاة إن لم ير السنن حقا فقد كفر؛ لأنه تركها استخفافا وإن رآها حقا فالصحيح أنه يأثم؛ لأنه جاء الوعيد بالترك
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved