• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

فاؤنڈیشن والوں کو زکوٰۃ کے پیسے دے کر مستحقین کے لیے قربانی کا حکم

استفتاء

زکوۃ کے پیسوں سے کیا ہم غریب مسکینوں کے لیے قربانی کر سکتے ہیں؟ جیسے كسى فاونڈیشن والوں کو زکوۃ  کے پیسے بھیج کر مستحقین کے لیےقربانی کروا دی جائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

زکوۃ کے پیسوں سے قربانی کروانا جائز نہیں ہے ۔

توجیہ : زکوۃ کی ادائیگی کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ کسی مستحق کو اس مال کا مالک بنایا جائے جبکہ کسی فاؤنڈیشن کو یہ پیسے قربانی کے لیے دینے میں یہ شرط مفقود ہے۔

ہندیہ (1/180) میں ہے :

اما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى.

شامی (2/344) میں ہے :

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved