- فتوی نمبر: 35-217
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
Fresh ST کمپنی کی TEX MEX ساس استعمال کرنا کیسا ہے؟ اس کے پیکٹ پر لکھے ہوئے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں:
Tomato Concentrate, Sugar, Vinegar, Smoke flavour, Modified starch, Dehydrated paprika, Citric acid, Xanthane gum, Salt, Water
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ ساس TEX MEX کے اجزائے ترکیبی میں سے کسی جزء کے حرام ہونے پر ہمیں کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں ملی لہذا جب تک مذکورہ TEX MEX ساس میں کسی حرام جزء کے شامل ہونے کی کوئی قابلِ اعتبار دلیل سامنے نہیں آتی اس وقت تک اسے استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ ساس کے پیکٹ پر 10 اجزائے ترکیبی مذکور ہیں جن میں سے آٹھ (8) نباتاتی اور دو(2) معدنی ہیں۔ ان اجزاء کی تفصیل اور ان کا حکم درج ذیل ہے:
نباتاتی اجزاء :
(1)Tomato Concentrate (خشک کیے ہوئے ٹماٹر کا گاڑھا پیسٹ )
(2) Sugar (چینی )
(3) Vinegar (سرکہ)
(4) Smoke flavour (دھوئیں کا ذائقہ )
(5)Modified starch (تبدیل شدہ نشاستہ )
(6) Dehydrated paprika (ایک قسم کی سُرخ مرچ کا پاؤڈر )
(7) Citric acid (ترشۂ ترنج ) ایک ترش مادہ جو لیموں اور مالٹے وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے۔
(8)Xanthane gum (سبز پتوں والی سبزیوں سے حاصل ہونے والی گوند)
نباتاتی اجزاء کا حکم:
ان میں سے نشہ آوریامضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء میں سے کوئی بھی جز نشہ آور اور مضر نہیں ہے لہذایہ سب اجزاء حلال اور پاک ہیں اور سرکہ بھی تبدیل ماہیت کی وجہ سے حلال اور پاک ہے۔
معدنی اجزاء:
(9) Salt (نمک)
(10) Water (پانی)
معدنی اجزاء کا حکم:
ان کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر اجزاءکے علاوہ سب حلال اور پاک ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ جز نشہ آور یا مضر نہیں ہے لہذا یہ جزبھی حلال اور پاک ہے۔
نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer) کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع(Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیئے یا دوسرے کیلئےحلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جبکہ صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیئے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام جز شامل تو نہیں ،اس لیئے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer) کے لیئے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔
نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کر ےتو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔
إحياء علوم الدين(2/ 92)میں ہے:
«أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة»
بہشتی زیور (ص:604) میں ہے:
’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘
بہشتی زیور (ص:600) میں ہے:
’’جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا نشہ لانے والا ہو۔‘‘
امداد الفتاوی(4/96)میں ہے:
’’سوال (۲۳۷۴) : جب سے پتہ لگا ہے کہ بعض ولایتی رنگوں میں اسپرٹ کا شبہ ہے اسی وقت سے جب بھی کپڑا پہنتا ہوں تو طبیعت میں شک رہتا ہے کہ یہ کہیں ناپاک نہ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرماویں کہ ولایتی رنگ دار کپڑوں مثلاً رنگین گرم کپڑے، رنگین دھاری دار سرد کپڑے، عورتوں کے لئے پختہ رنگ کی رنگین چھینٹیں وغیرہ بلا دھوئے پہننے اور پہن کر نماز پڑھنے میں حرج تو نہیں ہے؟
(۲) حضرت والا یہ بھی ارشاد فرماویں کہ عورتوں کے لئے ولایتی رنگوں سے دوپٹہ وغیرہ رنگ کر پہننے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اول تو خود ان رنگوں میں جزونجس شامل ہونے میں شبہ پھر ان کپڑوں میں ان رنگوں کے شامل ہونے میں شبہ تو کپڑوں کے نجس ہونے کا شبہۃ الشبہہ ہوگیا؛ اس لئے فتوے سے گنجائش ہے باقی اگر کوئی ورع اختیار کرلے اولیٰ واحسن ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved