- فتوی نمبر: 36-04
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ فاسدہ کے احکام
استفتاء
ہمارے علاقے میں گندم کا مالک کسی شخص سے یہ طے کر لیتا ہے کہ میں تمہیں گندم کاٹنے پر بطور اجرت اسی گندم سے نکلنے والا بھوسہ جو کہ مویشیوں کے لیے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے دے دوں گا لیکن تم نے کٹائی بھی کرنی ہے اور گندم کو تھریشر مشین سے صاف بھی کروانا ہے اور اس تھریشر مشین کی مزدوری بھی تم نے ہی ادا کرنی ہے تو اس صورت کا کیا حکم ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت اصلا ناجائز ہے لیکن اگر کسی علاقے میں مذکورہ صورت کا عرف ہو جائے تو اس علاقے میں مذکورہ صورت کی گنجائش ہوگی ۔
توجیہ : مذکورہ صورت کے ناجائز ہونے کی دو وجہیں ہیں :
(۱) چونکہ اجرت میں اسی گندم سے حاصل ہونے والا بھوسہ طے کیا جاتا ہے اس لیے یہ صورت قفیز طحان کی بنے گی جو کہ جائز نہیں ۔
(۲) عقد کے وقت معلوم نہیں ہوتا کہ کتنا بھوسہ نکلے گا اس لیے اجرت مجہول ہوتی ہے۔
کسی علاقے میں عرف ہونے کی صورت میں جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ:
(۱)مذکورہ صورت اگرچہ قفیز طحان کی بنتی ہے لیکن قفیز طحان کی منصوص صورت کے علاوہ جو صورتیں اس کے ساتھ لاحق ہوتی ہیں ان کی عرف کی بنا پر فقہاء نے گنجائش دی ہے جیسا کہ حائک کو سوت کاتنے کی اجرت اسی میں سے ایک ثلث دینے کو مشائخ بلخ نے عرف کی بنا پرجائز قرار دیا ہے لہذا عام عرف ہونے کی بنا پر مذکورہ صورت کی بھی گنجائش ہوگی۔
(۲ )اسی طرح اگرچہ اجرت کی مقدار میں جہالت ہوتی ہے لیکن اول تو یہ بالکلیہ جہالت نہیں بلکہ کھیت دیکھ کر کچھ نہ کچھ اندازہ ہوجاتا ہے نیز جہالت کے بارے میں ضابطہ ہے کہ وہ جہالت عقد کے لیے مفسد ہوتی ہے جومفضی الی النزاع ہو اور کسی معاملہ میں عرف ہونے کی وجہ سے جہالت مفضی الی النزاع نہیں رہتی اس لیے عرف ہونے کی صورت میں اس کی گنجائش ہوگی ۔
شامی (6/ 56) میں ہے:
«(ولو) (دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه – صلى الله عليه وسلم – عن قفيز الطحان
رسائل ابن عابدین (2/115) میں ہے:
وأعلم ان اعتبار العادة والعرف رجع اليه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك اصلا فقالوا في الاصول في باب ما تترك به الحقيقة تترك الحقيقة بدلالة الاستعمال والعادة هكذا ذكر فخر الاسلام انتهى كلام الاشباه ……. وقال فى الذخيرة البرهانية في الفصل الثامن من الاجارات فيما لو دفع الي حائك غزلا علي ان ينسجه بالثلث قال ومشايخ بلخ كنصير بن يحيى ومحمد بن سلمة وغيرهما كانوا يجيزون عند الاجارة في الثياب لتعامل اهل بلدهم والتعامل حجة يترك به القياس ويخص به الاثر وتجويز هذه الاجارة في الثياب لتعامل بمعنى تخصيص النص الذي ورد في قفيز الطحان لان النص ورد في قفيز الطحان لا في الحائك الا ان الحائك نظيره فيكون واردا فيه دلالة فمتى تركنا العمل بدلالة هذا النص في الحائك وعملنا بالنص في قفيز الطحان كان تخصيصا لا تركا اصلا وتخصيص النص بالتعامل جائز الا ترى انا جوزنا الاستصناع للتعامل والاستصناع بيع ما ليس عنده وانه منهى عنه وتجويز الاستصناع بالتعامل تخصيص منا للنص الذي ورد في النهى عن بيع ما ليس عند الانسان لا ترك للنص اصلا لانا عملنا بالنص في غير الاستصناع قالو وهذا بخلاف ما لو تعامل اهل بلدة قفيز الطحان فانه لا يجوز ولا تكون معاملتهم معتبرة لانا لو اعتبرنا معاملتهمم كان تركا للنص اصلا وبالتعامل لايجوز ترك النص اصلا وانما يجوز تخصيصه
شامی (6/ 63) میں ہے:
«قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة»
شامی (6/ 53) میں ہے:
« (وجاز إجارة الحمام) ….. (والظئر) بكسر فهمز: المرضعة (بأجر معين) ….. (و) كذا (بطعامها وكسوتها) ولها الوسط، وهذا عند الإمام لجريان العادة بالتوسعة على الظئر شفقة على الولد»
(قوله لجريان العادة إلخ) جواب عن قولهما لا تجوز؛ لأن الأجرة مجهولة.
ووجهه أن العادة لما جرت بالتوسعة على الظئر شفقة على الولد لم تكن الجهالة مفضية إلى النزاع، والجهالة ليست بمانعة لذاتها بل لكونها مفضية إلى النزاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved