- فتوی نمبر: 34-306
- تاریخ: 15 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > قسم کے الفاظ اور ان کے احکام
استفتاء
ہمارے علاقے میں رواج ہے جب چوری ہو جاتی ہے تو جس کی چوری ہوتی ہے وہ بندہ علاقے والوں سے قرآن مجید پر گواہی لیتا ہے اور گواہی گھر کے سربراہ نے دینی ہوتی ہے ، گھر کا سربراہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہمارے گھر والوں نے آپ کی چوری نہیں کی۔کیا گھر کا سربراہ اس طرح گواہی دے سکتا ہے یا نہیں ؟شریعت کا کیا حکم ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: کیا گھر کا سربراہ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر گواہی دیتا ہے یا صرف قرآن کی قسم کھاتا ہے اور کیا الفاظ بولتا ہے؟
جواب وضاحت: قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ میں اس پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی چوری ہمارے گھر والوں نے نہیں کی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں گھر کے سربراہ کو یقینی اور قطعی طور پر معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس کے گھر میں سے کسی نے چوری کی ہے یا نہیں کیونکہ غیب کا علم اس کے پاس نہیں ، البتہ انسان اپنے بارے میں قطعی طور پر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا بتا سکتا ہے لہذا مذکورہ صورت میں گھر کا سربراہ اپنے بارے میں جو سچ ہو وہ بتا سکتا ہے اگر بغیر قرآن مجید اٹھائے مخاطب کو یقین نہ آئے تو قرآن مجید کو ہاتھ میں اٹھا کر مخاطب کو مطمئن کرنے کی گنجائش ہے۔اور اپنے گھر کے افراد کے بارے میں یوں کہے کہ مجھے علم نہیں ہے کہ ان میں سے کسی نے چوری کی ہے یا نہیں؟ اور اس پر یقین دلانے کے لیے قرآن پر ہاتھ رکھنا بھی جائز ہے ۔
اگر گھر کے سربراہ کو اپنے گھر کے افراد میں سے کسی کے بارے میں معلوم ہو تو پھر جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں چاہے قرآن اٹھائے یا نہ اٹھائے۔
شامی (5/552) میں ہے:
(التحليف على فعل نفسه يكون على البتات) أي القطع بأنه ليس كذلك (و) التحليف (على فعل غيره) يكون (على العلم) أي إنه لا يعلم أنه كذلك لعدم علمه بما فعل غيره ظاهرا
الفقہ الاسلامی وادلتہ (8/5995) میں ہے:
الحلف على البت أو نفي العلم: ويحلف الشخص باتفاق أئمة المذاهب الأربعة على البت (وهو القطع والجزم) في فعله إثباتاً كان أو نفياً؛ لأنه يعلم حال نفسه ويطلع عليها
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved