- فتوی نمبر: 32-231
- تاریخ: 02 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > امامت و جماعت کا بیان
استفتاء
گھر میں باجماعت نماز پڑھنے کی ترتیب!
صرف دو مرد مقتدی
امام سے ایک بالشت پیچھے دائیں طر ف متقدی کھڑا ہوا |
باپ اور ایک سے زائد مرد
باپ امامت کروائے اور دیگر اس کے پیچھے صف کی صورت میں کھڑے ہوں۔ | ||||||||||
صرف میاں بیوی
شوہر امامت کرے اور بیوی اس کے ٹھیک پیچھے کھڑی ہو۔ |
میاں بیوی اور ایک بیٹا شوہر امامت کرے بیٹا
تھوڑا پیچھے ہٹ کر دائیں طرف کھڑا ہو اور بیوی امام کے ٹھیک پیچھے صف میں کھڑی ہو۔ | ||||||||||
میاں بیوی اور بچے بچے امام کے بالکل پیچھے
صف میں کھڑے ہوں
اور بیوی بچوں کی صف کے بالکل ٹھیک پیچھے کھڑی ہو۔ |
بیٹے اور مستورات
امام کے بالکل پیچھے مردوں کی صف ، اس کے بعد لڑکیوں اور خواتین کی صف۔ | ||||||||||
| برائے مہربانی مرد وعورت گھر میں مقررہ اوقات پر باجماعت نماز کی پابندی کریں اور زیادہ سے زیادہ توبہ استغفار کریں۔ نوٹ: باجماعت نماز ادا کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جماعت میں سب ہی محرم ہوں۔ محرم وہ ہے جس سے نکاح نہ ہوسکے۔ | |||||||||||
کیا یہ نقشہ ٹھیک ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ نقشہ میں متعدد باتیں درست نہیں ، جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :
1۔مذکورہ نقشہ میں صرف دو مرد ہونے کی صورت میں کہا گیا ہے کہ” امام سے ایک بالشت پیچھے ….. الخ”جس کا ظاہری مطلب یہ بنتا ہے کہ مذکورہ صورت میں امام کے برابر کھڑے ہونا درست نہیں جبکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں ظاہر الروایۃ کے مطابق مقتدی کو امام کے بالکل برابر کھڑے ہونا چاہیے البتہ امام محمدؒ کی ایک روایت یہ ہے کہ مقتدی امام سے اتنا پیچھے کھڑا ہو کہ مقتدی کے پاؤں کی انگلیاں امام کی ایڑی کے پاس ہوں۔
بدائع الصنائع (1/ 158) میں ہے:
وإن كان مع الإمام رجل واحد أو صبي يعقل الصلاة يقف عن يمين الإمام….. ثم إذا وقف عن يمينه لا يتأخر عن الإمام في ظاهر الرواية، وعن محمد أنه ينبغي أن تكون أصابعه عند عقب الإمام، وهو الذي وقع عند العوام.
عمدۃ الفقہ(2/205) میں ہے:
اگر امام کے ساتھ ایک شخص یا ایک لڑکا ہو جو نماز کو سمجھتا ہو تو وہ امام کے داہنی طرف امام کے برابر کھڑا ہو یہی قوی مذہب ہے۔
2۔مذکورہ نقشہ میں باپ اور ایک سے زائد مرد ہونے کی صورت میں کہا گیا ہے کہ” باپ امامت کروائے …. ….الخ” حالانکہ ہر حال میں باپ کا امامت کروانا ضروری نہیں بلکہ ان میں سے جو شخص نماز اور امامت کے مسائل سے زیادہ واقف ہو اور اس کی تجوید بھی درست ہو اور وہ باشرع بھی ہو مثلا داڑھی نہ منڈاتا ہو وغیرہ وغیرہ وہ امامت کروائے خواہ وہ باپ ہو یا بیٹا ہو یا کوئی اور شخص مثلا بھائی وغیرہ ہو ۔
تنویر الابصار مع درالمختار(350/2) میں ہے:
(والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الأحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة، ثم الأورع) أي الأكثر اتقاء للشبهات. والتقوى: اتقاء المحرمات
مسائل بہشتی زیور(1/191) میں ہے:
مسئلہ:سب سے زیادہ استحقاق امامت اس شخص کو ہے جو نماز کے مسائل خوب جانتا ہو بشرطیکہ ظاہراً اس میں فسق وغیرہ کی بات نہ ہو اور جس قدر قراء ت مسنون ہے اسے یاد ہو اور قرآن صحیح پڑھتا ہو۔ اگر کسی موقع پر حاضر ین میں سے دو آدمی اس وصف میں برابر ہوں تو پھر ان دو میں سے وہ شخص جو قرآن شریف اچھا پڑھتا ہے یعنی قراء ت کے قواعد کے مطابق پڑھتا ہے وہ امامت کے زیادہ لائق ہے اور اگر اس وصف میں بھی دونوں برابر ہوں تو پھر ان میں سے وہ شخص ہے جو زیادہ پرہیز گار ہو۔
3۔مذکورہ نقشہ میں میاں بیوی اور ایک بیٹا ہونے کی صورت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں بھی نمبر 1 اور نمبر 2 کے ذیل میں ذکر کردہ خرابی ہے۔
4۔مذکورہ نقشہ میں برائے مہربانی کے عنوان کے تحت کہا گیا ہے کہ “مرد و عورت گھر میں مقررہ اوقات پر باجماعت نماز کی پابندی کریں” حالانکہ مردوں کو تو مقررہ اوقات پر گھر کے بجائے مسجد میں مقررہ اوقات پر باجماعت نماز کی پابندی کرنی چاہیے ۔
5۔مذکورہ نقشہ میں کہا گیا ہے کہ “اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جماعت میں سب ہی محرم ہوں” حالانکہ سب کا محرم ہونا شرعا ضروری نہیں۔
تنویر الابصار مع درالمختار (2/368) میں ہے:
(تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره بحر
في الشامية: (قوله أما الواحدة فتتأخر) فلو كان معه رجل أيضا يقيمه عن يمينه والمرأة خلفهما ولو رجلان يقيمهما خلفه والمرأة خلفهما بحر، وتأخر الواحدة محله إذا اقتدت برجل لا بامرأة مثلها ط عن البرجندي
(قوله على المذهب) خلافا لما مر عن محمد من أنه يجعل أصابعه عند عقب الإمام بحر، ويأمره الإمام بذلك: أي بالوقوف عن يمينه ولو بعد الشروع أشار إليه بيده لحديث ابن عباس أنه قام عن يسار النبي صلى الله عليه وسلم فأقامه عن يمينه» سراج.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved