- فتوی نمبر: 26-146
- تاریخ: 22 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان اہلسنت کہ میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا، اس کے والدین میرے ساتھ غصہ میں باتیں کر رہے تھے میں نے کہا کہ بیٹھ کر بات کرو لیکن وہ خاموش نہیں ہو رہے تھے میں نے ان کو غصے میں کہا کہ’’ جاؤ اپنی بیٹی کو لےجاؤ‘‘ اور بیوی کو میں نے تین مرتبہ کہاکہ ’’میں تینوں طلاق دتی‘‘ (میں نے تجھے طلاق دی) غصے میں مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا تھا غیرمقلدین سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایک ہی طلاق واقع ہوئی ہے۔ شرعی حکم بیان فرمادیں۔
لڑکی کے والد کا بیان: سلیم نے تین، چار مرتبہ میری بیٹی کو میرےسامنے کہا کہ ’’تینوں طلاق اے‘‘ (تجھے طلاق ہے)۔ اگر کوئی گنجائش نکلتی ہو تو بتادیں ورنہ ہم ناجائز کام نہیں کرنا چاہتے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل صادر ہوا ہے، غصہ کی ایسی کیفیت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے لہذا اب نہ صلح ہوسکتی ہے اور نہ ہی رجوع کی گنجائش ہے۔
نوٹ:تین طلاقیں چاہے اکٹھی دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں بہر صورت تین ہی ہوتی ہیں۔ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین اور ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔
مسلم شریف (962/2حدیث نمبر1471 ط بشری) میں ہے:
عن نافع أن ابن عمر … … … أما أنت طلقتها ثلاثا، فقد عصيت ربك فيما أمرك به من طلاق امرأتك، وبانت منك.
ترجمہ:نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (اکٹھی تین طلاقیں دینے والے سے کہا ) تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی )تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (بتایا ہوا طریقہ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔
ابوداود شریف (666/1 حدیث نمبر2197ط بشری) میں ہے:
”عن مجاهد قال: «كنت عند ابن عباس فجاءه رجل فقال: إنه طلق امرأته ثلاثا، قال: فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه ثم قال: ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول: يا ابن عباس يا ابن عباس، وإن الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا) وإنك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجا عصيت ربك، وبانت منك امرأتك“
ترجمہ:مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو(اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا گنجائش ہے اس پر) عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر ) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے پھر انہوں نے فرمایا تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اےابن عباس اےابن عباس (کوئی راہ نکالیئے کی دہائی دینے لگتا ہے ) حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ”ومن یتق الله یجعل له مخرجا“ (جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں۔) تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے) تو میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں پاتا، (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی
علامہ بدرالدین العینی الحنفی رحمہ اللہ ،عمدۃالقاری (223/20) میں فرماتے ہیں:
”ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم، منهم: الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه، وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون، عل أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن، ولكنه يأثم“
درمختار مع رد المحتار(509/4) میں ہے:
”فروع : كرر لفظ الطلاق وقع الكل .
قوله : (كرر لفظ الطلاق) بان قال للمدخولة: ”انت طالق انت طالق“ او ”قد طلقتك قد طلقتك“ او ”انت طالق قد طلقتك“ او ”انت طالق و انت طالق“ … الخ“
بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:
”و اما الطلاق الثلاث فحكمها الاصلي هو زوال الملك و زوال حل المحلية ايضا، حتی لایجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عزوجل ، ’’فان طلقها فلا تحل له من بعد حتي تنكح زوجا غيره .“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved