- فتوی نمبر: 26-272
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
مفتی صاحب گھریلو معاملات میں ہمارا میاں بیوی کا جھگڑا ہوگیا، بیوی کہنے لگی کہ میں اپنے گھر جاتی ہوں، میں نے کہا کہ ایسا نہ کرو یہ بہت بڑا فیصلہ ہے، میرے بیٹے نے بھی اسے کہا کہ ایسا نہ کرو لیکن وہ نہیں مانی، ہمارا جھگڑا بڑھ گیا اور اسی دوران میں نے غصے میں بیوی کو بول دیا کہ ’’تم مجھ پر طلاق ہو‘‘ ’’تم مجھ پر طلاق ہو‘‘ ’’تم مجھ پر طلاق ہو‘‘۔ اب وہ بھی پریشان ہے میں بھی پریشان ہوں۔ کیا یہ طلاقیں ہو گئی ہیں یا نہیں؟ لڑائی صرف زبان سے تھی، کوئی مارپیٹ نہیں ہوئی اور اس کے علاوہ بھی کوئی توڑ پھوڑ یا کوئی ایسا کام نہیں کیا جو عام عادت سے ہٹ کر ہو۔ میں کوئی نشہ وغیرہ نہیں کرتا اور اس واقعہ کے وقت میرے ہوش و حواس سلامت تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل صادر ہوا ہے، غصہ کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے ،اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
ردالمحتار (439/4) میں ہے:
”قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله. اه.“
درمختار مع ردالمحتار (509/4) میں ہے:
“فروع : كرر لفظ الطلاق وقع الكل .
قوله : (كرر لفظ الطلاق) بان قال للمدخولة: ”انت طالق انت طالق“ او ”قد طلقتك قد طلقتك“ او ”انت طالق قد طلقتك“ او ”انت طالق و انت طالق“وإذا قال: ”أنت طالق“ ثم قيل له ما قلت؟ فقال: ”قد طلقتها“ أو ”قلت هي طالق“ فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم”
بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:
“و اما الطلاق الثلاث فحكمها الاصلي هو زوال الملك و زوال حل المحلية ايضا، حتی لایجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عزوجل ، ’’فان طلقها فلا تحل له من بعد حتي تنكح زوجا غيره.”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved