- فتوی نمبر: 26-365
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں زید ولد خالد نے گھر والوں کے بہکاوے میں آکر اپنی بیوی زینب دختر عمر کو 8 مارچ 2020 کو اپنے ہوش و حواس میں تین بار طلاق دی ہے، جب کہ میں ایسا کچھ کرنا نہیں چاہتا تھا، بس غصے اور بہکاوے میں آنے کی وجہ سے میں نے یہ قدم اٹھایا، غصے میں مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں، کوئی خلاف عادت کام یا توڑ پھوڑ نہیں کی، تین بار یہ کہا تھا کہ ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘ جب میں نے طلاق دی کمرے میں گھر کے تین چار افراد موجود تھے، میری ایک بیٹی ہے جس کی عمر چار سال ہے اور ایک بیٹا ہے جس کی عمر دو سال ہے، میں اپنی بیگم اور بچوں سے الگ نہیں رہ سکتا، ہم دوبارہ سے اپنے گھر میں خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں، اس لئے مہربانی فرما کر اس کا کفارہ بتا دیں تا کہ ہم آپس میں مل کر رہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی غصے میں اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل صادر ہوا ہے، غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
فتاوی شامی (4/439) میں ہے:
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله……………فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved