• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکم

استفتاء

18 رمضان کو افطاری کے بعد زیادہ چینی والا  دودھ  سوڈا پینے کی وجہ سے میرا بلڈ پریشر لو ہوا ، افطاری سے پہلے بھی بلڈ پریشر لو تھااورسر میں شدید درد تھا۔ بیوی نے اس وقت آکر میرے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ طبیعت کیسی ہے؟ شدید سر درد تھا دو تین دفعہ پہلے بھی میرے ساتھ یوں ہوا ہے کہ جس کی وجہ سے میرا دماغ سُن ہو جاتا ہے اور چڑچڑاپن ہو جاتا ہے  اور اسی دن افطاری کے بعد اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ جھگڑا بھی ہوا تھا اسی وقت بیوی کے ساتھ بھی لڑائی ہوئی،  میں نے  بیوی کو سمجھایا کہ چپ ہو جائے  لیکن اس کے چپ نہ ہونے  کی وجہ سے میں نے  غصے میں اسے طلاق دی ، طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ “طلاق ہے ،طلاق ہے ،طلاق ہے ” طلاق کے بعد زور سے  زمین پر گلاس پھینکا اور موبائل  بیڈ پر پھینکا اس وقت میرے ہوش و حواس بالکل قائم نہیں تھے ۔میرا طلاق کا قصد و ارادہ بھی نہیں تھا  البتہ الفاظ بولتے وقت مجھے معلوم تھا کہ کیا کہہ رہا ہوں ، 10/15منٹ بعد پانی پی کر مجھے ہوش آیا ۔

اس صورتحال  کو مد نظر رکھتے ہوئے تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں یا نہیں؟

دارالافتاء کے نمبر سے بیوی سے رابطہ کیا گیا تو اس نے شوہر کے بیان کی تصدیق کی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہذا اب نہ رجوع ہوسکتا  ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے ۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ شوہر کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی طلاق دیتے وقت اس سے کوئی خلاف عادت قول یا فعل صادر ہوا ہے ۔

نوٹ: طلاق دینے کے بعد شوہر سے جو خلاف عادت فعل کا صدور ہوا ہے اس کا اعتبار نہیں  کیونکہ طلاق  سے پہلے کاجنون  طلاق  کے عدم وقوع  کے لیے مفید ہے بعدکا نہیں ، بعد میں نقصان کی وجہ سے ایسی حرکتیں کرنا عین ممکن ہے۔

رد المحتار(4/439) میں ہے:

وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله………….. فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved