• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حالت احرام میں چہرے پر ماسک لگانے کا حکم

استفتاء

میں آج یوٹیوب پر ویڈیو دیکھ رہی تھی ، حرم کے اندر سب لوگ طواف کرتے ہوئے ماسک پہنے ہوئے تھے۔ میں نے یہاں تک سنا ہے کہ حرم کے اندر چہرے پر کپڑا بھی نہیں لگنا چاہیے۔ اگر پردہ کرنا ہو تو پی کیپ کے اوپر کپڑا آنا چاہیے چہرے پر بھی نہیں لگنا چاہیے۔ مولانا صاحب یہ جو ماسک پہن کر طواف کررہے ہیں کیا یہ ٹھیک ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حالتِ احرام میں ماسک پہننا درست نہیں لیکن اگر کسی بیماری یا حکومتی پابندی کی وجہ سے ماسک پہننا پڑے تو ایسی صورت میں گناہ نہیں ہوگا لیکن اس صورت میں بھی ماسک  پہننے والے پر جزاءآئے گی جس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ماسک سے چہرے کا چوتھائی (4/1) حصہ بارہ گھنٹے مسلسل ڈھکا رہا تو تین اختیار ہیں:

(1) دم دے۔

(2) یا چھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دے۔

(3) یا تین روزے رکھے۔

اور اگر چوتھائی چہرے سے کم ڈھکا رہے یا ایک چوتھائی ڈھکا رہا لیکن بارہ گھنٹہ سے کم اور  ایک گھنٹے سے زیادہ ڈھکا رہا تو  دو اختیار ہیں:

(۱) پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کسی ایک  مسکین کو دے۔

(۲) ایک روزہ رکھے۔

اوراگر ایک گھنٹے سے کم ڈھکا رہا تو مٹھی بھر گندم یا اس کی قیمت کسی مسکین کو دے مثلا دو چار ریال دیدے۔

ہندیہ (1/242) میں ہے:

‌ولو ‌غطى ‌المحرم رأسه أو وجهه يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة كذا في الخلاصة وكذا إذا غطاه ليلة كاملة سواء غطاه عامدا أو ناسيا أو نائما كذا في السراج الوهاج.

إذا غطى ربع رأسه فصاعدا يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة

مناسك الملا على قاری  مع ارشاد السارى (ص: 341) میں ہے:

ولو غطى جميع رأسه أو وجهه بمخيط أو غيره يوماً أو ليلة فعليه دم وفى الأقل من يوم صدقة والربع منها كالكل .

وفيه أيضاً: (إذا فعل شيئاً من ذالك مما ذكر من الأشياء المحظورة) على وجه الكمال فان كان بغير عذر فعليه دم عيناً لا يجوز عنه غيره وان كان بعذر فهو مخير بين الدم والطعام والصيام، ولوكان موسرا قادراً على الدم أو الطعام فان اختار الطعام فعليه أن يطعم ستة مساكين كل مسكين نصف صاع من بر أو دقيق أو صاعا من تمر أو شعير ويجوز فيه التمليك والإباحة وإن اختار الصيام فعليه صوم ثلاثة أيام ويجوز ولو متفرقاً وإن لم يفعل شيئاً منها على وجه الكمال بأن لبس أقل من يوم أو تطيب قليلاً ونحو ذلك فعليه نصف صاع من بر أو صاع من غيره لا يجوز فيه الصوم إن كان بغير عذر وإن كان بعذر فهو مخير بين الصدقة وصوم يوم اهـ

غنیۃ الناسک (ص: 392) میں ہے:

قال في البحر: وأطلق في الأقل فشمل الساعة وما دون منها خلافا لما في خزانة الاكمل انه في ساعة نصف صاع وفى أقل من ساعة قبضة بر. قال في ضياء الابصار لكن ذكر الامام الناطفي في الروضة نحو ما في الخزانة فهو مقيد لما في المتون فلذا مشى عليه أهل المناسك.

 ففي اللباب: وكذا لو لبس ساعة فصدقة وفى أقل من ساعة قبضة من بر او قبضتان من شعير

مناسك الملا على قاری  مع ارشاد السارى (ص: 333) میں ہے:

(قفي أقل من يوم او ليلة صدقة وكذا لو لبس ساعة) أى نجومية وهى جزء من اجزاء اثنى عشر حالة اعتدال الليل والنهار (فصدقة) أى معروفة القدر (وفى أقل من ساعة) أى عرفية لا لغوية لانها أقل ما يطلق عليه الزمان (قبضة) …….. (من بر)

معلم الحجاج (ص:308) میں ہے:

مرد کو احرام میں سر اور منہ دونوں ڈھانکنا منع ہے اور عورت کے لیے صرف چہرہ ڈھانکنا منع ہے تو اگر مرد نے احرام کی حالت میں سارا سر یا چہرہ یا چوتھائی سر یا چوتھائی چہرہ کسی ایسی چیز سے ڈھانکا جس سے عادتا ڈھانکتے ہیں جیسے عمامہ، ٹوپی یا کوئی اور کپڑا سلا ہوا یا بغیر سلا سوتے یا  جاگتے قصدا یا  بھول کر راضی سے ہو یا زبردستی سے خود ڈھانکا ہو یا کسی دوسرے نے ڈھانکا ہو عذر سے ہو یا بلا عذر بہر صورت جزاء واجب ہوگی۔

اگر ایک دن یا رات کامل یا اس سے زیادہ سر یا چہرہ یا  ان کا چوتھائی حصہ کسی کپڑے سے ڈھانکا یا عورت نے صرف چہرے کو ڈھانکا تو ایک دم واجب ہوگا اور اگر چوتھائی حصے سے کم ڈھانکا یا ایک دن یا رات سے  کم ڈھانکا تو صدقہ واجب ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved