• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حج و عمرہ کی خدمات فراہم کرنے کا کاروبار کرنا

استفتاء

کیا اسلام میں حج ،عمرہ سروسز کا کاروبار کرنا حلال ہے،مطلب یہ ہے کہ کیا حاجیوں سے نفع کمانا جائز ہے؟

مقصد یہ ہے کہ وہاں  لوگ اپنا فریضہ ادا کرنےجاتے ہیں اور ہم ان کو سہولیات فراہم کرتے ہیں اور نفع کماتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ  تو نہیں ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حاجیوں کو خدمات فراہم کرنا اور اس کے عوض میں اجرت وصول کرنا جائز ہے۔

خیر الفتاوی، کتاب الحج (4/230) میں ہے:

سوال:حجاج کرام سے معلمین اعلی اور نائب معلمین کے لیے جو فیس طلب کی جاتی ہے وہ جائز ہے یا نہیں نیز جو نائب معلمین کام کرتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں ۔1۔ فارم درخواست برائے حج مہیا کرنا اور پر کرنا ۔2۔ تاریخ معینہ پر درخواست دفتر میں بھیجنا ۔3۔ بعد منظوری دفتر سے حالات کا جائزہ لینا اور حجاج کو آگاہ کرتے رہنا 4۔حجاج کو گھر سے بندرگاہ تک کے کاروبار ،ٹیکہ وغیرہ لگوانا۔

جواب۔ ان اعمال پر جو معلمین حضرات انجام دیتے ہیں اور جن کی تفصیل سوال کے اندر مذکور ہے اجرت لینا جائز ہے بوجہ عمل کے معلوم اور متعین ہونے کے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved