- فتوی نمبر: 36-163
- تاریخ: 29 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > حج کی شرائط کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص احرام باندھنے سے پہلے راستہ میں انتقال کر جائے تو کیا اسکا حج ہوجائے گا یانہیں ؟ جبکہ وہ حجِ فرض ادا کرنے جارہا ہو۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جب انہوں نے حج ادا نہیں کیا تو ان کا فرض حج ادا نہ ہوگا۔ لیکن اگر اسی سال ان پر حج فرض ہوگیا تھا اور وہ اس حج کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے تو فرض حج ان کے ذمے سے ساقط ہوگیا، وصیت کی بھی ضرورت نہیں۔
اور اگر حج اسی سال فرض نہ ہوا تھا بلکہ ایک دو سال پہلے فرض ہوگیا تھا تو ان کے ذمے سے فرض حج ساقط نہیں ہوا۔ ان کو حجِ بدل کی وصیت کرنا ضروری تھا۔
شامی (3/524) میں ہے:
فان قدر ثم عجز قبل الخروج الى الحج تقرر دينا في ذمته فيلزمه الاحجاج فلو خرج ومات في الطريق لم يجب الايصاء لانه لم يؤخر بعد الايجاب.
قال الرافعي تحته: قوله (فلو خرج ومات في الطريق) عبارة النهر: (ولو مات في الطريق لا يجب عليه الايصاء أي اتفاقا) وعلله في البحر بما ذكره المحشي والمراد أن من مات في الطريق من أصحاب الاعذار المذكورة في اول سنة الايجاب لا يجب عليه الايصاء لا من مات بعد تقرره في ذمته.
النہر الفائق (2/55) میں ہے:
فان قدر عليه ثم زالت القدرة وجب الاحجاج اتفاقا ولو مات في الطريق لا يجب عليه الايصاء اي اتفاقا.
غنیۃ الناسک (ص:59) میں ہے:
من جاءه وقت خروج أهل بلده أو أشهر الحج وقد استكمل سائر شرائط الوجوب والاداء وجب عليه الحج من عامه ووجب اداؤه بنفسه فيلزمه التأهب والخروج معهم فلو لم يحج حتى مات فعليه الايصاء به هذا إذا لم يحج ولم يخرج الى الحج فاما لو حج من عامه فمات في الطريق لا يجب عليه الايصاء لانه لم يؤخر بعد الايجاب كذا في الفتح وكذا كل من وجب عليه الحج اما حجة الاسلام او القضاء او النذر اذا مات قبل التمكن من ادائه سقط عنه الحج ولا يجب عليه الوصية به (لباب وشرحه)
معلم الحجاج (ص:383) میں ہے:
مسئلہ: جس شخص پر حج فرض ہوگیا اور ادائیگی کا وقت ملا لیکن ادا نہیں کیا، اور بعد میں ادائیگی کی قدرت نہیں رہی، عاجز ہوگیا، تو اس پر کسی دوسرے سے حج کرانا فرض ہے، خواہ اپنی زندگی میں کرائے یا مرنے کے بعد حج کرانے کی وصیت کر جائے۔ اس پر وصیت واجب ہے۔
اور اگر حج کے وجوب کی شرائط تو پائی گئیں، لیکن ادائیگی کا وقت نہیں ملا، یا حج کو جاتے ہوئے راستے میں مر گیا، تو اس کے اوپر سے حج ساقط ہوگیا اور اس پر حج کرانے کی وصیت واجب نہیں۔
اس کے حاشیہ میں مفتی شیر محمد صاحب لکھتے ہیں:
یعنی یہ اس وقت ہے جبکہ وجوبِ حج کے سال میں گیا اور مر گیا۔ اگر دوسرے یا تیسرے سال گیا ہو تو وصیت واجب ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved