- فتوی نمبر: 26-91
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ علی المعاصی
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم یورپ، یوکے میں زیر تعلیم ہیں اپنا خرچہ پورا کرنے کےلیے ہوم ڈیلیوری کا کام کرتے ہیں جس میں ریسٹورنٹ کے آرڈر ہوتے ہیں جس میں ڈبہ پیک حلال کھانے بھی ہوتے ہیں اور حرام کھانے بھی ہوتے ہیں جو گھروں میں پہنچاتے ہیں جس میں مسلمان بھی ہوتے ہیں اور غیر مسلم بھی اور یہ کام ہم اسکول کے بعد کرتے ہیں ،کیا یہ کام ہمارے لیے حلال ہے یا حرام ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ کام جائز ہے جبکہ ریسٹورنٹ کا مالک غیر مسلم ہواور خریدار بھی غیر مسلم ہو،البتہ جس صورت میں آپ کو یقینی علم ہو کہ ڈبہ میں حرام کھانا ہے اور اس کاخریدار بھی مسلمان ہے یا ریسٹورنٹ کا مالک مسلمان ہے تواس صورت میں کھانا ڈیلیور کرنا جائز نہیں۔
توجیہ:مذکورہ سوال یورپ کے ممالک سے متعلق ہے جو کہ دارالحرب ہیں اور امام صاحب کے نزدیک حربی اور ذمی کافر جبکہ صاحبین کے نزدیک حربی کافر مخاطب بالفروع نہیں ہیں اس لئے شراب یا حرام کھانے ان کے حق میں معصیت نہیں ہیں لہذا مذکورہ صورت میں مسلمان کا ان کو یہ چیزیں اجرت پر سپلائی کرنا اعانت علی المعصیت کی صورت نہیں بنے گی لہذا یہ صورت جائز ہوگی جبکہ جس صورت میں خریدار مسلمان ہو اور سپلائی کرنے والے کو معلوم بھی ہو کہ ڈبہ میں یہ چیز حرام ہے یا ریسٹورنٹ کا مالک مسلمان ہو تو یہ صورت اعانت علی المعصیت کی بنے گی جس کی وجہ سے یہ صورت ناجائز ہوگی۔
محیط البرھانی(347/11) میں ہے:
وإذا استأجر مسلماً ليحمل له خمراً ولم يقل ليشرب، أو قال ليشرب جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما، وكذلك إذا استأجر الذمي بيتاً من مسلم ليبيع فيه الخمر، جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما.والوجه لأبي حنيفة فيما إذا نص على الشرب، إن هذه إجارة وقعت لأمر مباح؛ لأنها وقعت على حمل الخمر ليشربها الذمي، أو وقعت على الدار ليبيع الذميّ وشرب الخمر مباح؛ لأن خطاب التحريم كأنه غير نازل في حقه.
وهذا بخلاف ما إذا استأجر الذمي من المسلم بيتاً يصلي فيه حيث لا يجوز؛ لأن ثمة صفة المعصية، إذا أمنت في حقه لديانته تبقى صفة الطاعة و الاستئجار على الطاعة لا يجوز ومعنى صفة المعصية متى انتفت عن الشرب لديانته بقي فعلاً مباحاً في نفسه ليس بطاعة فتجوز الإجارة، وفيما إذا لم ينص على الشرب، فالوجه له أن الخمر كما يكون للشرب وإنه معصية في حق المسلم يكون للتخليل، وإنه مباح للكل فإذا لم ينص على الشرب يجب أن يجعل التنقل للتخليل حملاً لهذا العقد على الصحة.وهو نظير ما لو استأجر الذميّ من المسلم بيتاً ولم يقل ليصلى فيه، فإنه يجوز، وإن كان له أن يصلي فيه ويتخذه بيعة وكنيسة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved