- فتوی نمبر: 35-398
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: عبادات > متفرقات عبادات
استفتاء
1۔میں سعودیہ میں مقیم ہوں یہاں نماز عصر وقت سے قبل ادا کر دیتے ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے کہ نماز ان کے ساتھ ادا کر لینی چاہیے باقی اگر ان کے ساتھ ادا نہ کریں تو مسجد بند ہو جاتی ہے جس سے جماعت کا ثواب اور مسجد میں نماز ادا کرنے سے محروم ہو جائیں گے تو مجبوراً گھر ادا کرنی پڑے گی ۔
2۔عصر کی نماز باجماعت رہ گئی اور انفرادی نماز پڑھتا ہوں تو ایک بندہ پیچھے سے آکر دائیں کندھے پر ہاتھ لگاتا ہے اور ساتھ بطور مقتدی نماز شروع کر دیتا ہے تو ایسے میں کیا حکم ہوگا کہ جیسے جماعت کی نماز میں بالجہر اللہ اکبر یا سمع اللہ پڑھا جاتا ہے ایسا پڑھنا ہوگا یا انفرادی کی طرح ؟
3۔ مغرب کے وقت میں مسجد گیا پہلی جماعت ہو گئی دوسری جماعت کے لیے ایک اکیلا شخص بلند قراءت کر رہا ہے تو کیا اس جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں بطور مقتدی؟
4۔مسجد میں پہلی جماعت ہو گئی اب دوسری دفعہ یا تیسری دفعہ پھر سے جماعت ہو رہی ہے تو کیا اس جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں مسجد بھی متعلقہ یا اپنے محلے کی ہے۔
5۔ جب “السلام علیکم ورحمۃ اللہ ” کہتے ہیں تو ہم تو پاکستان میں جب امام صاحب دائیں طرف منہ پھیرتے تھے تو ہم بھی دائیں طرف پھیرتے ہیں اس کے بعد جب بائیں طرف منہ پھیرتے تھے تو امام صاحب کے پیچھے بائیں جانب جبکہ ادھر جب امام دونوں طرف منہ پھیر لیں اس وقت دائیں اور بائیں سلام کے لیے منہ پھیرتے ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں آپ مسجد میں جماعت کیساتھ عصر کی نماز ادا کریں۔
2۔ آپ اپنی نماز جاری رکھیں اور جس طرح انفرادی نماز پڑھ رہے تھے اسی طرح پڑھتے رہیں پیچھے کھڑے ہونے والے کی نماز کے آپ ذمہ دار نہیں۔تاہم اگر آپ جماعت کی طرح اپنی نماز پوری کریں یعنی امامت کی نیت کرکے اللہ اکبر اور سمع اللہ بالجہر پڑھیں تو پھر بھی جائز ہے۔
3۔ انفرادی پڑھ لیں کیونکہ مسجد میں جماعتِ ثانیہ مکروہ ہے تاہم جماعت میں شریک ہونے والوں پر نکیر نہ کریں۔
4۔ اس کا حکم بھی نمبر 3 والا ہے۔
5۔ امام کے پہلے سلام کے ساتھ مقتدی کا پہلا سلام پھیرنا بہتر ہے تاہم امام کے دوسرے سلام کے ساتھ مقتدی کا پہلا سلام پھیرنا بھی جائز ہے۔
مراقی الفلاح (ص: 175) میں ہے:
“و” ثانيها “وقت” صلاة “الظهر من زوال الشمس” عن بطن السماء بالاتفاق ويمتد إلى وقت العصر وفيه روايتان عن الإمام في رواية “إلى” قبيل “أن يصير ظل كل شيء مثليه” سوى فيء الزوال لتعارض الآثار وهو الصحيح وعليه جل المشايخ والمتون والرواية الثانية أشار إليها بقوله “أو مثله” مرة واحدة “سوى ظل الاستواء”
حلبی کبیر (ص:618) میں ہے:
شرع منفردا في صلاة جهرية فقرأ الفاتحة مخافتة ثم اقتدى به جماعة يجهر بالسورة ان قصد الامامة والا فلا اذ لا يلزمه ما لم يلتزم
الدر المختار مع ردالمحتار (2/79) میں ہے:
بل يكره فعلهما وتكرار الجماعة إلا في مسجد على طريق فلا بأس بذلك
(قوله: وتكرار الجماعة) لما روى عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من بيته ليصلح بين الأنصار فرجع وقد صلى في المسجد بجماعة، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم في منزل بعض أهله فجمع أهله فصلى بهم جماعة» ولو لم يكره تكرار الجماعة في المسجد لصلى فيه. وروي عن أنس ” أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا إذا فاتتهم الجماعة في المسجد صلوا في المسجد فرادى ” ولأن التكرار يؤدي إلى تقليل الجماعة؛ لأن الناس إذا علموا أنهم تفوتهم الجماعة يتعجلون فتكثر وإلا تأخروا. اهـ. بدائع. وحينئذ فلو دخل جماعة المسجد بعد ما صلى أهله فيه فإنهم يصلون وحدانا، وهو ظاهر الرواية ظهيرية. وفي آخر شرح المنية: وعن أبي حنيفة لو كانت الجماعة أكثر من ثلاثة يكره التكرار وإلا فلا. وعن أبي يوسف إذا لم تكن على الهيئة الأولى لا تكره وإلا تكره وهو الصحيح، وبالعدول عن المحراب تختلف الهيئة كذا في البزازية
البحر الرائق (1/352) میں ہے:
وقوله مع الإمام بيان للأفضل يعني الأفضل للمأموم المقارنة في التحريمة والسلام عند أبي حنيفة وعندهما الأفضل عدمها للاحتياط وله أن الاقتداء عقد موافقة وأنها في القران لا في التأخير، وإنما شبه السلام بالتحريمة؛ لأن المقارنة في التحريمة باتفاق الروايات عن أبي حنيفة، وأما في السلام ففيه روايتان لكن الأصح ما في الكتاب كما في الخلاصة
آپ کے مسائل اور ان کا حل(3/210) میں ہے:
سوال : عصر کی نماز حنفیوں کے نزدیک ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو جائے تو پڑھنی چاہیے اگر ایک شخص اپنے ملک یا کسی دوسرے ملک میں کسی ایسے امام کے پیچھے نماز باجماعت پڑھتا ہے جو ایک مثل کے بعد پڑھا رہا ہو تو کیا اس کے پیچھے نماز باجماعت پڑھ لے یا جماعت چھوڑ دے اور جب دو مثل ہو جائے تو تنہا نماز ادا کرے اس صورت میں جماعت کے ترک کی وجہ سے گناہ کا مرتکب تو نہیں ہوگا ؟
جواب: حنفیہ کے یہاں دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ مثل دوم میں عصر کی نماز صحیح ہے لہذا اگر کسی جگہ عصر کی نماز دو مثل سے پہلے ہوتی ہو وہاں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے دوسری مثل کے ختم کے انتظار میں جماعت کا ترک کرنا جائز نہیں ہے۔
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے:
میں پاکستان سے ہوں اور سعودی عرب میں کام کر رہا ہوں میرے کچھ سوالات ہیں: ……… 2۔مسجد میں دوسری جماعت کا رواج عام ہے ہمارے لیے کیا حکم ہوگا اگر پہلی جماعت چھوٹ جائے تو کیا ہم دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں یا تنہا نماز پڑھیں ؟
جواب : ………….2۔جس مسجد میں پنج وقتہ نماز باجماعت اپنے وقت مقررہ پر ادا کی جاتی ہو اور امام و مؤذن متعین ہوں اس میں جماعت ثانیہ کرانا جائز نہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عادت شریفہ یہی تھی کہ جب ان سے جماعت فوت ہو جاتی تو وہ تنہا تنہا نماز ادا کرتے اس لیے آپ بھی کوشش یہی کریں کہ جماعت اولی سے نماز پڑھیں البتہ اگر کبھی جماعت اولی فوت ہو جائے تو تنہا نماز پڑھ لیا کریں جماعت ثانیہ میں شریک نہ ہوں اور اگر جماعت ہی مقصود ہو تو دو تین مل کر خارج مسجد جماعت ادا کر لیا کریں مسجد میں جماعت ثانیہ ادا نہ کریں۔
مسائل بہشتی زیور (1/144) میں ہے:
اگر مجبوری ہو تو عصر کی نماز ایک مثل سایہ کے بعد بھی پڑھ سکتا ہے مجبوری کے چند مواقع یہ ہیں:
1۔مسجد حرام اور مسجد نبوی میں چونکہ ایک مثل کے بعد عصر کی نماز ہوتی ہے وہاں کی باجماعت نماز کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے ۔
2۔کوئی شخص تبلیغ کے لیے ایسے ملک میں گیا ہو جہاں مثل اول کے بعد عصر کی جماعت ہوتی ہو اور اس شخص نے مسجد میں ٹھہرنا ہو ۔
3۔سفر کرنا ہو اور دو مثل کے بعد نماز کا موقع نہ ملنے کا اندیشہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved